The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کے لئے بڑا اعزاز

ریاض : عالمی ادارہ صحت نے عارضی ہیلتھ گائیڈ بک کا جراء کیا ہے، جس میں برطانوی جامعات میں پی ایچ ڈی کے سعودی اسکالرز کی ریسرچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس سے متعلق عارضی ہیلتھ گائیڈ بک جاری کی ہے جو دنیا بھر میں اسکالرز کی ریسرچ کا مجموعہ ہے۔ اس میں برطانوی جامعات میں پی ایچ ڈی کے سعودی سکالرز کی ریسرچ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔

سعودی ذرائع ابلاغ کے مطابق عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) نے گائیڈ بک میں دنیا کے مختلف ممالک سے 211 تحقیقی مقالے جمع کیے ہیں۔ ان میں سعودی سکالرز کی ریسرچ کا سولہواں نمبر ہے۔ یاد رہے کہ عالمی ادارہ صحت دسمبر 2019 کے بعد سے کورونا وائرس کی وبا پر مسلسل ریسرچ کررہا ہے۔۔

لندن کالج میں میڈیسن کے سعودی اسکالر جابر القحطانی نے بتایا کہ 211 تحقیقی مقالوں میں سے ان کے مقالے کا انتخاب کیا گیا۔

کورونا سے متعلق 20 ہزار سے زیادہ تحقیقی مضامین پیش کیے گئے تھے، عالمی ادارہ صحت نے 3 سائنسی رپورٹوں میں ہمارے تحقیقی مقالے کے نتائج کو بنیاد بنایا ہے۔

القحطانی نے کہا کہ یہ ان کے لیے بڑے فخر کی بات ہے کہعالمی ادارہ صحت نے ان کی ریسرچ کو آگے بڑھایا ہے۔ اعزاز کی بات یہ بھی ہے کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے مقرر قواعد و ضوابط کے عالمی ماہرین نے ہمارے مقالے کو سراہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب سمیت کئی ملکوں کے سکالرز نے ان کی قیادت میں جو تحقیقی مقالہ تیار کیا اس کا کلیدی نکتہ یہ ہے کہ کووڈ 19 کے مریضوں میں سے سگریٹ نوشوں اور پھیپھڑے کے لاعلاج امراض میں مبتلا افراد میں مرنے والوں کا تناسب کتنا ہے؟

القحطانی نے بتایا کہ عبداللہ الشہرانی، ماطر محمد المحمادی، سعید الغامدی، عبداللہ القحطانی کے علاوہ مختلف شعبوں کے ماہر برطانوی سکالرز بھی شریک رہے۔

’ہماری ریسرچ کا بنیادی مقصد یہ جاننا اور سمجھانا تھا کہ سگریٹ نوشی کی لمبی تاریخ رکھنے والوں اور پھیپھڑے کے مریضوں پر کووڈ 19 کا کتنا اثر ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں جدید ترین طور طریقے آزمائے گئے۔‘

القحطانی نے بتایا کہ ان کی ٹیم نے 130 تحقیقی مقالوں کا گہرائی سے مطالعہ کیا، 15 تحقیقی مقالوں کے نتائج سکالرز کے نتائج کے مطابق پائے گئے۔ جبکہ 2473 مریضوں پر آزمائشی ضوابط استعمال کیے گئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں