site
stats
عالمی خبریں

سعودی عرب:‌ سرکاری محکموں سے تمام غیر ملکی ملازمین نکالنے کا حکم

ریاض: سعودی حکومت نے اپنی تمام وزارتوں اور سرکاری محکموں کو حکم دیا ہے کہ وہ تین سال کے اندر تمام غیر ملکی باشندوں کو محکموں سے برطرف کردیں تاکہ سرکاری ملازمتیں مقامی افراد کو منتقل کی جاسکیں۔

سعودی گزٹ کے مطابق یہ فیصلہ سعودی سول سروس کے ڈپٹی منسٹرعبداللہ المیلفی کی جانب سے پیر کو منعقد ہونے والے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس کا ایجنڈا مقامی افراد کو روزگار دلانے کے اقدامات سے متعلق تھا اور موجودہ حکم بھی سعودی ویژن 2020ء کا ایک حصہ ہے۔

منسٹری آف سول سروس کے مطابق گزشتہ سال 2016ء کے اختتام تک پبلک سیکٹر میں کام کرنے والے غیر ملکی باشندوں کی تعداد 70 ہزار کے لگ بھگ تھی، اب فیصلہ کیا گیا ہے کہ تین سال بعد یعنی سال 2020ء تک سعودی عرب کے سرکاری اداروں (پبلک سیکٹر) میں کوئی غیر ملکی ملازم موجود نہیں ہوگا۔

بعدازاں اجلاس کے بعد ورک شاپ ’’جاب نیشنلائزیشن ‘‘منعقد کی گئی جس میں منسٹری کے اعلیٰ حکام، دیگر وزارتوں کے ایچ آر ایکسپرٹس، سرکاری محکمہ جات اور جامعات کے نمائندگان نے شرکت کی۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سول سروسز کے نائب وزیر عبداللہ میلفی نے کہا کہ مقامی افراد کو سرکاری ملازمتوں کی مکمل فراہمی نیشنل ٹرانسفارمیشن پروگرام 2020ء (این ٹی پی)اور کنگڈم ویژن 2030ء کا ایک اہم حصہ ہے۔


یہ ضرور پڑھیں: غیرملکی افراد کو شاپنگ مالز میں نوکریاں نہ دی جائیں، سعودی حکومت


انہوں نے کہا کہ این ٹی پی کی کامیابیاں اور ویژن 2030ء کا انقلاب تمام وزارتوں اور سرکاری اداروں کا تعاون سے ہی ممکن ہے۔

اجلاس میں سرکاری ملازمتیں مقامی افراد کو منتقل کرنے میں حائل رکاوٹوں پر بات کی گئی،شرکا کی آرا لی گئیں۔

قبل ازیں 20 اپریل کو سعودی حکومت نے تمام خریداری کے مراکز اور تاجروں کو پابند کیا ہے کہ وہ غیر ملکی تارکین کو نوکریاں نہ دیں بلکہ ملازمتیں صرف سعودی شہریوں کو دیں ( اوپر دیے گئے لنک پر کلک کریں)

حکومت کے اس فیصلے سے غیر ملکی ملازمین کی بہت بڑی تعداد متاثر ہوگی کیوں کہ ایک اعداد وشمار کے مطابق شاپنگ سینٹر میں موجود ہر پانچ ملازمین میں سے چار غیر ملکی ہیں جن میں پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی اور دیگر ممالک کے افراد کی تعداد زائد ہے۔

دریں اثنا ورک شاپ میں نیشنلائزین سے متعلق ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی جس میں اس ضمن میں اٹھائے گئے حالیہ اقدامات اور موجودہ صورتحال کو اجاگر کیا گیا۔


یہ بھی پڑھیں: سعودی حکام نے غیر ملکی ڈینٹسٹ بھرتی کرنے پر پابندی عائد کردی


مزید براں  ابھی چند روز قبل حکومت نے ٹرانسپورٹ اور ڈینٹسٹ سمیت کئی شعبہ جات میں غیر ملکی ملازمین بھرتی کرنے  پر پابندی عائد کردی ہے۔

saudi


ضروری خبر:غیر سعودی ملازمین کی جگہ مقامی افراد بھرتی کرنے کا فیصلہ


 واضح رہے کہ غیر سعودی ملازمین کی جگہ سعودی ملازمین بھرتی کرنے کا فیصلہ 20 مارچ کو سامنے آیا جس کے تحت 2020 تک بے روزگاری کی شرح 12.1 سے 9 فی صد تک کی جائے گا لیکن اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اٹھائے گئے سخت اقدامات سے غیر ملکی ملازمین کا روزگار خطرے میں پڑ جائے گا۔ (مزید تفصیل کے لیے اوپر دیئے گئے لنک پر کلک کریں)

سعودی حکومت نے اپنے ملک میں موجود بین الاقوامی اور ملکی کمپنیوں کو پابند کیا ہے کہ وہ مقامی افراد کی مخصوص تعداد کو بہ طور ملازم ضرور رکھیں بصورت دیگر قانونی چارہ جوئی بھی کی جا سکتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top