The news is by your side.

Advertisement

سعودی فرمانروا اور محمد بن سلمان کے درمیان تنازعات شدت اختیار کرگئے، رپورٹ

لندن: برطانوی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلمان کے درمیان تنازعات کے باعث فاصلے پیدا ہوگئے ہیں۔

برطانوی اخبار دی گارڈین میں شائع ہونے والی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان گزشتہ کئی روز سے ہونے والی اعلیٰ سطح کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کررہے۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ولی عہد نے سفارتی اور وزارتی اجلاسوں کے حوالے سے بھی طلب کیے جانے کےباجود شرکت نہیں کی جس کے بعد فرمانروا نے محمد بن سلمان سے مالیاتی اور اقتصادی وزارتیں لینے کا فیصلہ کرلیا۔

مزید پڑھیں: خاشقجی قتل سے قبل بن سلمان نے ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے مہم کا آغاز کیا تھا، رپورٹ

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیاہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے محمد بن سلمان کو کابینہ کے اہم اجلاس میں ہر صورت شریک ہونے کا حکم دیا تھا مگر انہوں نے شاہی فرمان پر عمل نہیں کیا اور غیر حاضر رہے ساتھ ہی اپنا موبائل بھی بند رکھا۔

دی گارڈین نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ سعودی فرمانروا نے جمال خاشقجی کے قتل کی خبر دینے والے صحافی سے بھی امریکا میں رابطہ کرنے کی کوشش کی تاہم محمد بن سلمان کی ہدایت پر سفارت خانے نے اُن کے ساتھ تعاون نہیں کیا۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ محمد بن سلمان اور سعودی فرمانروا کے درمیان کشیدگی جمال خاشقجی کے قتل ہونے کے بعد سے ہوئی جو اب شدت اختیار کرتی جارہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بین الااقوامی اداروں سے تحقیقات کا مطالبہ ملکی معاملات میں‌ مداخلت ہے، سعودی عرب

یاد رہے کہ امریکی اخبار سے وابستہ سعودی نژاد صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبر کو سعودی قونصل خانے میں داخل ہونے کے بعد لاپتہ ہوگئے تھے تاہم جب دباؤ بڑھنا شروع ہوا تو سعودی حکومت نے اس بات کا اعتراف کیا کہ صحافی جھگڑے کے دوران مارے گئے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں