ریاض: سعودی حکومت نے ریاض میں 5 سالہ کرایے منجمد کرنے کا اعلان کردیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق ریاض میں کرایہ منجمد کرنے کا فیصلہ ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر کیا گیا ہے، رہائشی اور تجارتی عمارتوں کے کرائے آئندہ پانچ سال تک نہیں بڑھیں گے۔
نئے ضوابط کابینہ کی منظوری اور شاہی فرمان کے ذریعے نافذ کیے گئے ہیں، قوانین کا مقصد کرایوں میں توازن، شفافیت اور منصفانہ نظام قائم کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پہلے سے کرائے پر دی گئی خالی عمارت پچھلے معاہدے کے مطابق ہی دوبارہ دی جائے گی، نئی عمارت کا کرایہ مالک اور کرایہ دار باہمی رضامندی سے طے کریں گے، تمام کرایہ داری معاہدے ایجار پلیٹ فارم پر رجسٹر کرنا لازمی ہوگا۔
یہ پڑھیں: سعودی عرب اور قطر کا شام کے لیے 89 ملین ڈالر امداد کا اعلان
مالک رجسٹریشن نہ کرے تو کرایہ دار خود درخواست دے سکے گا، اعتراض کے لیے دونوں فریقین کو 60 دن کا وقت دیا جائے گا، کرایہ داری معاہدے خود کار طور پر تجدید ہوں گے، تجدید روکنے کے لیے بھی فریق کو 60 دن پہلے اطلاع دینا ہوگی۔
قوانین کے مطابق مالک مکان صرف تین صورتوں میں تجدید سے روک سکے گا، کرایہ ادا نہ کرے، عمارت کے خطرناک ہونے یا ذاتی استعمال کی صورت میں روکنا ممکن ہوسکے گا، کرائے پر نظرثانی کی اپیل صرف بڑی مرمت یا 2024 سے پہلے کے معاہدے کی صورت میں ہوسکے گی۔
علاوہ ازیں قوانین کی خلاف ورزی پر 12 ماہ کے کرائے تک جرمانہ اور معاوضہ دینا ہوگا، قوانین کی خلاف وزی رپورٹ کرنے والے کو 20 فیصد جرمانہ انعام کے طور پر ملے گا، جنرل رئیل اسٹیٹ اتھارٹی دیگر اداروں کے ساتھ مل کر عملدرآمد کرائے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اتھارٹی کرایوں کی رپورٹس ولی عہد کو پیش کرے گی، اصلاحات سے کرایہ داروں کا تحفظ اور شفافیت کو فروغ ملے گا، نظام میں استحکام، سرمایہ کاری کے ماحول اور پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کیے جائیں گے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


