The news is by your side.

Advertisement

خاشقجی قتل سے قبل بن سلمان نے ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے مہم کا آغاز کیا تھا، رپورٹ

واشنگٹن/ریاض : امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ محمد بن سلمان نے اپنے ناقدین کو خاموش کرانے کیلئے ایک سال قبل ’سعودی رپیڈ انٹر وینشن گروپ‘ کے نام سے ایک مہم شروع کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی جانب سے خفیہ طور پر ایک مہم کا آغاز کیا گیا تھا جس کا مقصد اپنے ناقدین کو خاموش کرانا تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے ’نیویارک ٹائمز‘ کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکام نے اس منصوبے کو ’سعودی رپیڈ انٹر وینشن گروپ‘ کا نام دیا تھا جس کی مقصد سعودی شہریوں کی نگرانی، ناقدین کا اغواء، گرفتار اور ان پر تشدد تھا۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ مذکورہ ٹیم کی سربراہی شاہی عدالت کے رکن سعودی القحطانی کررہے تھے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ اسی ٹیم کے کارندوں نے گزشتہ برس استنبول میں محمد بن سلمان کی پالیسیوں کے سخت ناقد صحافی جمال خاشقجی کو قتل کیا تھا۔

امریکی خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے سینیٹر کو بتایا گیا تھا کہ انہیں جمال خاشقجی کے قتل میں ولی عہد محمد بن سلمان ملوث ہونے پر یقین ہے تاہم سعودی حکومت مسلسل اس سے انکاری ہے۔

غیر ملکی میڈیا کا کہنا ہے کہ بعدازاں سعودی حکومت نے عالمی دباؤ پر صحافی کے قتل کا اعتراف کرتے ہوئے جمال خاشقجی کے قتل میں ملوث خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں پر فرد جرم عائد کرتے ہوئے سزا دینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

امریکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی ریپڈ انٹروینشن گروپ نے ہی خواتین اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین رضاکاروں کو گرفتار کیا تھا اور اب تک انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر تشدد کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا ہے کہ سعودی حکومت کی جانب سے ابھی تک سعودی رپیڈ انٹر وینشن گروپ کی تشکیل سے متعلق تردید یا تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں