The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب میں منشیات اسمگلنگ کے نرالے طریقے

ریاض: بیرون ملک سے سعودی عرب میں منشیات کی اسمگلنگ کے لیے جرائم پیشہ عناصر عجیب و غریب طریقے اپنانے لگے، شمالی سرحد پر کسٹمز حکام نے اردن کی ایک مسافر بردار بس کے ذریعے منشیات اسمگلنگ ناکام بنادی۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی شمالی سرحد پر کسٹمز حکام نے مسافر بس سے منشیات کی اسمگلنگ ناکام بنا کر 77 ہزار نو سو ’کپٹاگون‘ گولیاں قبضے میں لے لیں۔

کسٹمز ڈائریکٹر کا کہنا ہے کہ تمام ’کپتاگون‘ گولیاں کھانے پینے کی اشیاء کا سامان رکھنے کے لیے بنائی گئی پلاسٹک کی تین ٹوکریوں میں رکھی گئی تھیں، انہیں چھپانے کے لیے ٹوکریوں میں خوراک کا سامان بھی موجود تھا۔

کسٹمز حکام کا کہنا ہے کہ جرائم پیشہ عناصر منشیات کی اسمگلنگ کے لیے نرالے طریقے اپناتے ہیں، پھلوں، ٹماٹروں، گوبی کے پتوں، مونگ پھلی کے دانوں، رنگ گورا کرنے والی کریم کی بوتلوں، پانی کے فلٹرز، گاڑیوں کے اسپیئر پارٹس اور گیس سلنڈروں کے ذریعے بھی منشیات اسمگل کی جاتی رہی ہے۔

بعض جرائم پیشہ عناصر کی جانب سے مردہ جانوروں کی انتڑیوں میں منشیات ڈال کر انہیں سعودی عرب پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے، حال ہی میں سعودی کسٹمز حکام نے مختلف جانوروں کی 204 اوجھ اور انتڑیاں قبضے میں لیں۔

سعودی حکام کے مطابق منشیات کی اسمگلنگ کے حیران کردینے والے طریقوں میں پیاز کا استعمال بھی شامل ہے، کچھ عرصہ قبل کسٹمز کی جانب سے پیاز سے لدا ایک ٹرک پکڑا، پیاز کی بوریوں کے کے درمیان پلاسٹک کے ایک بیگ میں منشیات کی بھاری مقدار چھپائی گئی تھی۔

سعودی عرب میں بیرون ملک سے قرآن پاک رکھنے کے لیے لکڑی کی تیار کردہ ریلیں منگوائی جاتی ہیں، اسمگلر لکڑی کی بنی ان ریلوں اور ڈائریوں کو بھی منشیات کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتے پائے گئے، کسٹمز حکام نے اس طریقے سے 20 لاکھ سے زائد ’کپتاگون‘ منشیات کی گولیاں قبضے میں لیں۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: منشیات فروشی پر پاکستانی اور سعودی شہری کا سر قلم


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں