The news is by your side.

Advertisement

سعودی حکومت کا ہجری کیلنڈر کے بجائے عیسوی کیلنڈر پر عمل کرنے کا اعلان

ریاض : سعودی حکومت نے پہلی مرتبہ ہجری کیلنڈر کے بجائے عیسوی یا مغربی کیلنڈر پر عمل کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد سعودی عرب میں عیسوی کیلنڈر پر عمل کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔

سعودی کابینہ کی جانب س تنخواہوں اور مراعات میں کمی، سالانہ بونس اور تنخواہوں میں اضافے پر پابندی جیسے اقدامات کی منظوری دی گئی۔

عیسوی کیلنڈر کا اطلاق یکم اکتوبر سے ہوگا۔

سرکاری سطح پر 1932 ء سے سعودی عرب میں اسلامی کیلنڈر پرعمل کیا جاتا رہا ہے، قمری کی بجائے عیسوی کیلنڈر پر عمل کرتے ہوئے سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ادا کی جائیں گی۔

سعودی عرب دنیا میں سب سے زیادہ مقدار میں تیل برآمد کرنے والا ملک ہے، 2014ء سے تیل کی قیمتوں میں آنے والی کمی کی وجہ سے معاشی خسارے کا شکار ہے۔

ہجری کیلنڈر بارہ ماہ پر مشتمل ہوتا ہے اور مہینے میں 30 یا 29 دن ہوتے جو چاند پر منحصر ہوتے، ہجری کیلنڈر عیسوی کیلنڈر سے تقریباً گیارہ دن چھوٹا ہوتا ہے لہٰذا سعودی حکومت کو گریگورین کیلنڈر کے اطلاق سے ملازمین کو پہلے سے مقابلے میں کم تنخواہ ادا کرنا پڑے گی۔


مزید پڑھیں : سعودی وزراء کی تنخواہوں میں20فیصدکمی کااعلان


اس سے قبل شاہ سلمان سمیت وزراء اور شاہی خاندان کو ملنے والی مراعات میں بھی کمی لائی گئی ہے، سعودی وزراء کی تنخواہوں میں20 فیصد اور شوریٰ ارکان کی تنخواہوں میں 15فیصد کے اعلان کے علاوہ سرکاری ملازمین کے بونسز اور دیگر مراعات بھی ختم کردی گئی ہیں۔

سعودی حکومت تیل کی معیشت پر انحصار کم کرنے کے لیے پروگرام 2030ء کے تحت مختلف اقتصادی اصلاحات پر عمل پیرا ہے تاکہ عالمی منڈی میں تیل کی کم قیمتوں کے پیش نظرآمدن کے دوسرے ذرائع پیدا کیے جا سکیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں