The news is by your side.

Advertisement

قانون میں‌ ترمیم، سعودی خواتین کو اکیلے زندگی گزارنے کی اجازت

ریاض: سعودی حکومت نے قانون میں ترمیم کر کے خواتین کو محرم کے بغیر آزادنہ زندگی کا حق دے دیا۔

خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سعودی حکومت نے قانون کے آرٹیکل 169 کے پیرا گراف بی کو حذف کردیا جس کے بعد مقامی خواتین کو کسی مرد، سرپرست کے بغیر زندگی گزارنے کا اختیار ہوگا۔

اس قانون کے مطابق کسی بھی بالغ خاتون، مطلقہ یا بیوہ کو محرم کے ساتھ رہنا ضروری تھا۔

محکمہ قانون نے قانون میں ترمیم کے ساتھ وضاحت کی کہ ’ایک بالغ خاتون کو اب یہ حق ہوگا کہ وہ اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا انتخاب کرے،  عورت کا سرپرست اس کے بارے میں صرف اس وقت اطلاع کر سکتا ہے کہ جب اس کے پاس کوئی ثبوت ہو کہ مذکورہ خاتون کسی جرم کا ارتکاب کرنے والی ہے۔

مزید پڑھیں: سعودی خواتین کے لیے ایک اور بڑا اقدام

یہ بھی پڑھیں: سعودی خواتین بھی کسی سے پیچھے نہیں، امریکی میگزین کا بڑا اعتراف

اسے بھی پڑھیں: سعودی خواتین کا مرد سرپرستوں کی رضامندی کے بغیر بیرون ملک سفر

عرب میڈیا رپورٹ کے مطابق ’سزا یافتہ خاتون کی سزا پوری ہونے کے بعد اُسے سرپرست کے حوالے نہیں کیا جائے گا بلکہ وہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں جاکر رہائش اختیار کرسکیں گی‘۔

سعودی وکیل نائف الم مانسی نے مقامی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ ’اب کوئی بھی والد خاتون یا بیٹی کے خلاف اس بنیاد پر مقدمہ درج نہیں کراسکے گا کہ وہ تنہا رہنے کی خواہش مند ہیں، عدالتیں ایسی درخواستیں مسترد کردے گی‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں