The news is by your side.

Advertisement

اثاثوں سے دستبرداری، سعودی حکومت کا شہزادوں کی مشروط رہائی پر غور

ریاض: سعودی حکومت کرپشن کے الزام میں گرفتار ہونے والے افراد کو اثاثوں سے دستبردار ہونے کی شرط پر رہا کرنے پر غور کررہی ہے۔

برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق حکومتی ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حراست میں لیے جانے والے شہزادوں، سابق وزراء کو پیش کش کی جائے گی کہ وہ اپنے بینک کھاتوں اور اثاثوں کے کچھ حصے سے دستبردار ہوجائیں۔

اس ضمن میں حکومت نے تمام گرفتار کیے جانے والے افراد کی جائیداد، بینک کھاتوں اور شیئرز (حصص) کی مالیت کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے جس کے بعد اُن کے بینک اکاؤنٹس کو اثاثوں سے علیحدہ کردیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب میں ایک کھرب ڈالرکی کرپشن کا انکشاف ، 200 سے زائد افراد گرفتار

سعودی حکومت کی جانب سے زیر حراست افراد کے ساتھ کیے جانے والے معاہدوں کو عام نہیں کیا گیا تاہم ایک سرکاری افسر کا کہنا ہے کہ گرفتار تاجر نے چار ارب سعودی ریال سے دستبردار ہونے پر رضا مندی ظاہر کردی ہے۔

یاد رہے کہ پانچ نومبر کو سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی ہدایت پر اینٹی کرپشن کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے کارروائی کرتے ہوئے 11 شہزادوں، 4 موجودہ وزرا سمیت 38 سے زائد افراد کو گرفتار کیا تھا۔

سعودی حکومت نے ریاض کے فائیواسٹار ہوٹل کو سب جیل قرار دیتے ہوئے گرفتار شہزادے اور دیگر اہم شخصیات کو قید رکھا ہے جبکہ تمام افراد کے بینک کھاتے منجمد کردیے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں