The news is by your side.

Advertisement

شاہ سلمان نے اپنے پائلٹ بیٹے کو امریکہ کا سفیر مقرر کردیا

ریاض : سعودی فرمانروا شاہ سلمان نے رائل ائیر فورس میں پائلٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے اپنے بیٹے کو امریکہ میں سفیر مقرر کردیا ہے ۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی کابینہ میں واضح رد بدل ہوئی، سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے پرنس عبد اللہ بن فیصل بن ترکی کو امریکی سفارتکار کے عہدے سے ہٹا کر اپنے بیٹے شہزادہ خالدبن سلمان بن عبد العزیز کو اس عہدے پر مقرر کردیا، جس کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں تعلقات میں بہتری آ رہی ہے۔


پرنس عبد اللہ بن فیصل تقریباً ایک سال سے زیادہ عرصے تک امریکا میں سعودی سفیر کی خدمات انجام دیں ۔

امریکا میں سرگرم سعودی امریکن پبلک آفیئرز کمیٹی نے شہزادہ خالد کی واشنگٹن میں نئے سعودی سفیر کے طور پر تقرری کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کی تقرری امریکا سعودی عرب تعلقات، امن ، استحکام اور خوشحالی میں اضافے کا باعث بنے گی۔

سعودی امریکی پبلک آفیئرز کمیٹی کے صدر اور سیاسی تجزیہ کار سلمان الانصاری کا کہنا ہے کہ شہزادہ خالد بہت منظم نوجوان اور سرگرم شخصیت ہیں۔

شہزادہ خالد سعودی ائیر فورس میں فائٹر پائلٹ

نئے سعودی سفیر شہزادہ خالد امریکہ میں سفارتکار تعینات ہونے سے پہلے سعودی ائیر فورس میں فائٹر پائلٹ کے فرائض سرانجام دے رہے تھے اور انہوں نے حوثی افواج کے خلاف آپریشن میں بھی حصہ لیا۔


عرب میڈیا کے مطابق شہزادہ خالد  امریکی ریاست مسیسی پی کی کولمبس ائر بیس سے ہوابازی کی تربیت مکمل کی ہے، وہ سعودی فضائیہ میں شامل جدید ترین لڑاکا ایف 15 کے ہواباز کے طور پربین الاقوامی اتحاد کے پلیٹ فارم سے یمن میں فضائی کارروائیوں میں شریک رہے ہیں اور اپنی پیشہ وارانہ صلاحتیوں کا لوہا منوایا ہے۔

سعودی فضائیہ میں شہزادہ خالد کی خدمات کے اعتراف میں انہیں متعدد اعزازات سے نوازا جا چکا ہے۔ انہوں نے اب تک آپریشن ساؤتھ فیلڈ میڈل، دی بیٹل فیلڈ میڈل، دی ورک مین شپ میڈل اور شمشیر عبداللہ ایکسرسائز میڈل حاصل کئے ہیں۔

شہزادہ خالد نائب ولی عہد اور وزیر دفاع شہزاہ محمد بن سلمان کے چھوٹے بھائی ہیں۔

دوسری جانب سلمان بن عبدالعزیز نے اپنے 30 سالہ نواسے احمد بن فھد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو شرقیہ صوبے کا نائب گورنر  جبکہ ایک اور بیٹے کو توانائی کا وزیر تعینات کر دیا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں