The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب کا عازمین حج کے حوالے سے ایک اور بڑا فیصلہ

ریاض : سعودی وزارت حج نے حاجیوں کو خصوصی حج ٹریننگ دینے کا فیصلہ کرلیا اور کہا رواں سال حجاج کرام کی تعدادتقریباً10 ہزارہوگی جبکہ مکہ میں داخلےسے پہلے کورونا سمیت مکمل طورپرمیڈیکل چیک اپ لازم ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سعودی حکومت نے عازمین حج کے لئے صحت کابہترین منصوبہ اورسخت طریقہ کارتیار کرلیا ، ادائیگی حج کےلیے65 سال سےکم عمر کی پابندی لازمی قرار دی گئی ہے۔

حجاج کا مکہ میں داخلےسے پہلے کورونا سمیت مکمل طورپرمیڈیکل چیک اپ لازم ہوگا جبکہ حج سے پہلے اور حج کے بعد حجاج کو مکمل آئسولیشن میں رکھا جائے گا۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ حج کے دوران سماجی فاصلے کا اطلاق سختی سے کیا جائے گا اور دائمی بیماریوں میں مبتلاافرادکوحج کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

سعودی وزارت حج نے حاجیوں کو خصوصی حج ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا ہے، میڈیکل ٹیمیں روزانہ کی بنیادپرزائرین کےمعائنےکیلئے موجود ہوں گی جبکہ ہنگامی صورتحال سےنمٹنےکیلئےمنیٰ میں اسپتال قائم کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں : سعودی عرب کا حج کے بعد تمام حجاج کو آئسولیٹ کرنے کا فیصلہ

سعودی وزارت حج کا کہنا ہے کہ رواں سال حجاج کرام کی تعدادتقریباً10 ہزارہوگی، عازمین نہ بھیجنےکافیصلہ کرنے والےممالک قابل تعریف ہیں، عازمین کی رجسٹریشن کے لیے سفارتخانوں سےرابطہ کریں گے۔

یاد رہے سعودی حکومت نے محدود پیمانے پر حج کی اجازت دینے کا اعلان کیا تھا، سعودی وزارت خارجہ نے کہا تھا کہ سعودی عرب سے باہر سے کوئی حج پر نہیں آئے گا، صرف مقامی طور پر رہائش پذیر افراد کو حج کی اجازت ہوگی۔

واضح رہے کہ تقریباً 25 لاکھ کے قریب افراد ہر سال حج کی سعادت حاصل کرنے مختلف ممالک سے جاتے ہیں تاہم کرونا کی وجہ سے رواں سال یہ ممکن نہیں ہو سکے گا، خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق رواں سال حج انتہائی محدود تعداد میں حجاج کرام کے ساتھ ہوگا، یہ فیصلہ عازمین حج کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے

Comments

یہ بھی پڑھیں