The news is by your side.

Advertisement

تیل سے لدے جہاز کے خطرات سے نمٹنے کے لیے بڑی سعودی پیشکش

ریاض: سعودی عرب نے کئی برسوں سے سمندر میں تیرتے تیل سے لدے یمنی آئل ٹینکر ‘صافر’ سے تیل رسنے کے ممکنہ خطرات سے نمنٹے کے لیے 10 ملین ڈالر کی پیش کش کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب نے اتوار کے روز ایک پرانے یمنی آئل ٹینکر سے اپنے پانیوں سے متصل بحیرۂ احمر میں ممکنہ طور پر تباہ کن رساؤ کو روکنے کے لیے 10 ملین ڈالر دینے کا اعلان کر دیا ہے۔

یہ پیش کش سعودی عرب میں شاہ سلمان مرکز برائے امداد وانسانی خدمات کی جانب سے کی گئی ہے، 45 سالہ پرانا صافر نامی یہ آئل ٹینکر یمنی شہر الحدیدہ کے شمال میں بحیرۂ احمر کے ساحل پر لنگر انداز ہے، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ صافر آئل ٹینکر سے اقتصادی، انسانی اور ماحولیاتی خطرات درپیش ہیں۔

صافر ایک طویل عرصے تک سمندر کی سطح پر ذخیرے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہوتا رہا ہے، تاہم اسے اب باغیوں کے زیر قبضہ یمنی بندرگاہ حدیدہ پر آزاد چھوڑ دیا گیا ہے، اور یمن جب سے خانہ جنگی میں ڈوب گیا ہے، تب سے اس کی کوئی سروس نہیں کی گئی ہے۔

اب سعودی عرب کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ تیل رسنے کی صورت میں بڑا ماحولیاتی المیہ جنم لے سکتا ہے، بحیرہ احمر کے ساحل پر جہاز رانی کو سنگین خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اس صورت میں ماہی گیری اور عالمی جہاز رانی متاثر ہوگی۔

شاہ سلمان مرکز کے مطابق صافر آئل ٹینکر پر 10 لاکھ بیرل سے زیادہ تیل لدا ہوا ہے اور 2015 سے اس کی سروس یا مرمت کا کوئی کام نہیں ہوا، آئل رسنے کی وجہ سے یمن خوراک، فیول اور امدادی سامان کی ترسیل درہم برہم ہو جائے گی۔

سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر آئل ٹینکر سے تیل رستا یا اس میں کوئی دھماکا ہوتا ہے تو اس سے زیر آب حیاتیات متاثر ہوگی، حیاتیاتی مسائل پیدا ہوں گے اور فشریز کا پورا ماحول تباہ ہو جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں