پیر, اگست 10, 2026
اشتہار

عراق میں فضائی کارروائی کا ہدف ملیشیا تھی، عراقی عوام یا حکومت نہیں، سعودی عہدیدار

اشتہار

حیرت انگیز

ریاض:(4 اگست 2026): سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ عراق میں مملکت کے حالیہ فوجی حملے صرف ایران کی حمایت یافتہ ان دہشت گرد ملیشیاؤں کے خلاف تھے۔

جمعہ کے روز ‘العربیہ’ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی عرب کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ عراق میں مملکت کے حالیہ فوجی حملے صرف ایران کی حمایت یافتہ ان دہشت گرد ملیشیاؤں کے خلاف تھے جو سعودی سرزمین پر حملوں کی ذمہ دار ہیں، اور اس کا مقصد عراقی حکومت یا وہاں کے عوام کو نشانہ بنانا ہرگز نہیں تھا۔

سعودی عہدیدار نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ حملے کا اصل ہدف ایک دہشت گرد ملیشیا کی عسکری صلاحیتیں اور اس کا وہ عسکری ونگ تھا جو سعودی عرب کے لیے براہِ راست خطرہ بن رہا تھا اور مملکت میں شہری، اقتصادی اور اہم تیل تنصیبات پر حملوں میں ملوث پایا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ کارروائی نہایت محدود اور انتہائی درست نوعیت کا جوابی اقدام تھی، جو صرف متعلقہ ملیشیا کے اسلحہ گوداموں تک محدود رکھی گئی۔

سعودی عہدیدار کے مطابق، یہ انتہائی قدم تمام سفارتی اور سیاسی کوششیں ناکام ہونے کے بعد اٹھایا گیا کیونکہ یہ ملیشیائیں نہ صرف سعودی عرب بلکہ خود عراقی مفادات اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو بھی نقصان پہنچا رہی ہیں۔

سعودی عہدیدار نے دوٹوک الفاظ میں اس عزم کا اعادہ کیا کہ سعودی عرب عراقی حکومت اور عوام کے ساتھ اپنے برادرانہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔

اہم ترین

مزید خبریں