کینیڈا میں مقیم سعودی طلبہ اپنا سامان بیچنے لگے -
The news is by your side.

Advertisement

کینیڈا میں مقیم سعودی طلبہ اپنا سامان بیچنے لگے

سعودی عرب اور کینیڈا کے درمیان سفارتی تعلقات سرد ترین سطح پر ہیں جس کے سبب کینیڈا میں مقیم ہزاروں سعودی طلبہ اپنا سامان اونے پونے بیچ کر وطن واپس جانے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈا کے ساتھ بڑھتی ہوئی سفارتی کشید گی کے سبب سعودی عرب نے کینیڈا میں مقیم اپنے آٹھ ہزار طالب علموں کو واپس بلالیا ہے، طالب علموں کو 31 اگست تک کینیڈا چھوڑنا ہے جس کے سبب وہ اپنا سامان اونے پونے بیچنے پر مجبور ہیں۔

اپنی تعلیم ادھوری چھوڑ کر وطن واپس جانے والے یہ طلبہ جلدی میں اپنی گاڑیاں اور فرنیچر سمیت دیگر ناقابل انتقال اشیاء آن لائن اور گیراج سیل کے ذریعے انتہائی کم داموں فروخت کررہے ہیں۔

سعودی حکومت نے سات اگست کو اعلان کیا تھا کہ وہ اپنے ان تمام طالب علموں کو واپس بلالے گا جو کہ کینیڈا کی حکومت کی جانب سے دی جانے والی گرانٹ یا اسکالر شپ پر وہاں زیرِ تعلیم ہیں۔

سعودی طالب علموں کی مشکلات دیکھ کر کینیڈا کے علاقے ہالی فیکس میں واقع امہ مسجد اور کمیونٹی سنٹر کے امام عبداللہ یسری نے طالب علموں کی مشکلات دیکھ کر مسجد میں سیل کا اہتمام کیا ، یہ سیل 12 اور 17 اگست کو لگائی گئی، جس کا مقصد سعودی عرب واپس جانے والے طلبہ کو ا ن کی اشیا کےفروخت میں آسانی فراہم کرنا تھا۔

پہلی گیراج سیل کچھ اس طرح دکھائی دے رہی تھی

پہلی گیراج سیل اس قدر کامیاب رہی کہ مسجد نے گاڑیوں کے لیے الگ سے ایک سیل کا انعقاد کیا ، گاڑیوں میں زیادہ تر مہنگے برانڈز کی گاڑیاں شامل تھیں۔طالب علم اپنی قیمتی اشیا سے دست برداری پر افسردہ تھے۔

ایک طالب علم نے اپنی اسی سال خریدی گئی نسان روگ ایس کا اشتہار فیس بک پر ڈالا جس کا عنوان تھا کہ ’’ میں ایک بدقسمت سعودی طالب علم ہوں جسے دونوں ممالک کے جھگڑے کے سبب مجبوراً کینیڈا چھوڑنا پڑرہا ہے۔‘‘

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں