سعودی عرب کی رائل نیول فورسز اور امریکی بحریہ کی مشترکہ مشقیں مکمل ہوگئیں۔ مشقوں کا مقصد باہمی استحکام اور دفاعی تعلقات کو مضبوط تر کرنا تھا۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق سینٹ کام میں نیول فورسز کی کمانڈ کا کہنا ہے یہ مشقیں ‘انڈیگو ڈیفینڈر’ کے نام سے ہوئیں اور یہ سالانہ سرگرمی کا حصہ تھی۔ جسے دونوں ملکوں کی افراج نے مکمل کیا۔
رپورٹس کے مطابق کیپٹین کیلے جونز نے اس حوالے سے کہا کہ سعودی عرب کی رائل نیول فورسز اور امریکی بحریہ نے ایک دوسرے کی تربیت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی مجموعی صلاحیتوں کو بہتر کرنے میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ تاکہ خطے کے استحکام میں تعاون کیا جا سکے۔
ان مشقوں میں 50 امریکی اہلکاروں نے حصہ لیا۔ مشقوں کو دیکھنے کے لیے امریکی قونصل جنرل رفیق منصور بھی آئے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل چینی فضائیہ کی جاپان کے قریب ہوائی مشقوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔
رائٹرز کے مطابق جاپان نے دعویٰ کیا تھا کہ چینی فضائیہ نے جاپان کے اوکیناوا جزائر کے قریب پیش آنے والے دو خطرناک واقعات میں جاپانی فوجی طیاروں کو ریڈار کے نشانے پر لیا جبکہ چین نے اس الزام کی تردید کی تھی۔
جاپان نے حد پار کی تو بھاری قیمت چکائے گا، چین کا سخت انتباہ
وزیراعظم سانی تاکاچی کا کہنا تھا کہ ریڈار کا اس طرح نشانہ بنانا ایک خطرناک عمل ہے اس انتہائی افسوس ناک واقعے پر چین سے باضابطہ طور پر احتجاج بھی کیا گیا تھا۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


