The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب، سوشل میڈیا پر جعلی خبریں پھیلانے پر 5 سال قید، 30 لاکھ ریال جرمانہ

ریاض: سعودی عرب میں سائبر جرائم پر نظر رکھنے والے ادارے نے کہا ہے کہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جعلی اور غیرحقیقی معلومات پر مشتمل ویڈیو جاری کرنا جرم ہے ایسا کرنے پر 5 سال قید اور 30 لاکھ ریال جرمانہ ہوسکتا ہے۔

عرب میڈیا کے مطابق جعلی معلومات پر مشتمل ویڈیو جاری کرنے کا سلسلہ عام ہونے کے بعد انسداد سائبر کرائم ادارے نے ان کی روک تھام کرنے کا اعادہ کیا ہے اور خلاف ورزی پر 5 سال قید اور 30 لاکھ ریال جرمانہ کی سزا دی جائے گی۔

سعودی قانونی مشیر محمد التمیاط نے سائبر کرائم قوانین کی اس شق کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا صارفین ویوز اور لائک کے حصول کے لیے بعض اوقات غیرحقیقی معلومات پرمبنی جعلی ویڈیو بھی لگادیتے ہیں۔

قانونی مشیر کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا کے منفی اور مثبت دونوں پہلو ہیں، سائبر کرائم کے قوانین اس کے منفی پہلوؤں کو کم سے کم کرنے کی کوشش کے لیے لاگو کیے گئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سوشل میڈیا صارفین کو ریاست کے متعلق کوئی بھی پوسٹ یا ویڈیو شیئر کرتے ہوئے ان قوانین کا خیال رکھنا چاہئے، ریاست مختلف مواد شیئر کرنا بھی سائبر کرائم کے زمرے میں آتا ہے۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا پر انتشار پھیلانے والوں سے نمٹنے کے لیے حکمت عملی تیار

محمد التمیاط نے کہا کہ حادثات اور اس میں زخمی ہونے والوں کی ویڈیو شیئر کرنا بھی قانوناً جرم ہے۔

قانونی مشیر نے کہا کہ گزشتہ دنوں ایک صارف نے سوشل میڈیا پر لوگوں کو دعا کی طرف راغب کرنے کے لیے جھوٹی کہانی گھڑ لی تھی۔

مذکورہ شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ ایک مصری خاتون کے خلاف عدالت نے کسی جرم پر سزا سنائی تو اس نے حرم شریف میں جاکر دعا کی، اتفاق سے اس وقت وہاں سے گورنر مکہ مکرمہ شہزادہ خالد الفیصل گزر رہے تھے انہوں نے خاتون کی روداد سننے پر اس کی سزا معاف کردی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں