The news is by your side.

Advertisement

سعودی عرب: باپ کو آگ لگا کر قتل کرنے والے بیٹے کا سرقلم

ریاض: سعودی حکومت نے پیٹرول چھڑک کر باپ کو مارنے کا جرم ثابت ہونے پر بدھ کے روز بیٹے کو سزائے موت دیتے ہوئے اُس کا سر قلم کردیا۔

عرب میڈیا کے مطابق سعودی شہر بیشہ کے حکام نے باپ کو پیٹرول چھڑک کر نذر آتش کرنے والے مقامی شہری عبد اللہ بن مبارک البو عروق البیشی کا سرقلم کردیا۔

وزارتِ داخلہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکورہ شہری نے اپنے والد کو اُس وقت آگ لگائی تھی جب وہ گھر میں سور رہے تھے، بیٹا کارروائی کے بعد فرار ہوگیا تھا جسے پولیس نے تلاش کر کے گرفتار کیا۔

تفتیش کے دوران عبداللہ بن مبارک نے اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد اُس کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا اور پھر اُس نے عدالت میں جج کے سامنے بھی اپنے کیے پر ندامت کا اظہار کیا۔ سعودی عرب کی عدالت نے ملکی قوانین کے تحت شہری کو سزائے موت سنائی جس کے بعد آج مقامی حکام نے قانون کے مطابق اُس کا سرقلم کیا۔

مزید پڑھیں: سعودی عرب: ماں بیٹے سے زیادتی اور قتل، چار پاکستانیوں کا سرقلم

خیال رہے کہ گزشتہ برس جولائی کے مہینے میں سعودی عدالت نے 6 پاکستانیوں پر انسانی اسمگلنگ کا الزام ثابت ہونے پر سزا سنائی تھی علاوہ ازیں پانچ سعودی باشندوں کے بھی سر قلم کیے گئے تھے۔

یاد رہے کہ سعودی عرب میں سر قلم کیے گئے افراد کی تعداد دنیا میں سب سے زیادہ ہے جن افراد کے سرقلم کیے جاتے ہیں ان میں منشیات کی اسمگلنگ، دہشت گردی، قتل، زیادتی، مسلح ڈکیتی کے جرائم شامل ہیں۔

برطانیہ سے تعلق رکھنے والی انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے اعدادو شمار کے مطابق گزشتہ برس سعودی عرب میں ان جرائم پر 153 افراد کو سر قلم کی سزا دی گئی تھی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں