The news is by your side.

Advertisement

سعودیہ، چین کی معاونت سے بیلسٹک میزائل پروگرام تیار کررہا ہے، امریکی میڈٰیا کا دعویٰ

ریاض/واشنگٹن: امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی حکومت صحرا چین کے تعاون سے بیلسٹک میزائل پروگرام تیار کررہا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کا شمار امریکا کے خاص اتحادیوں میں ہوتا ہے جو مشرق وسطیٰ میں امریکی ہتھیاروں کا بڑا خریدار بھی ہے تاہم امریکی نشریاتی ادارے نے دعویٰ کیاہےکہ سعودی عرب امریکی حریف چین کی معاونت سے صحرا کے وسط میں ایک خفیہ پروگرام پر عمل پیرا ہے جس کے تحت بیلسٹک میزائل کی تیاری کو تیزی سے عملی جامہ پہنایا جارہا ہے۔

امریکی نشریاتی ادارے نے مختلف ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ سعودی رژیم بیلسٹک میزائل کی تیاری کے خواب کو شرمندہ تعبیر بنانے کے لیے بنیادی ڈھانچے اور ٹیکنالوجی کو جدید کرچکا ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ امریکی خفیہ اداروں کو موصول ہونے والی خفیہ اطلاعات سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ سعودی عرب بیلسٹک میزائل منصوبے پر عمل پیرا ہے۔

سی این این کا کہنا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خفیہ ایجنسیوں کو موصولہ اطلاعات سے کانگریس کو لاعلم رکھا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ سعودی سفارتے خانے نے مذکورہ واقعے پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا تاہم چینی حکام کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک عسکری سمیت تمام تزویراتی شعبوں میں ایک دوسرے کے معاونت کار ہیں اور یہ تعاون عالمی قوانین کی خلاف وزری کے زمرے سے باہر ہے۔

مزید پڑھیں : ٹرمپ انتظامیہ سعودیہ میں ایٹمی پلانٹ تعمیر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، رپورٹ

خیال رہے کہ اس سے قبل امریکی کانگریس نے ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ  امریکا سعودی عرب میں جوہری ری ایکٹر تعمیر کرنے کی تیاری کررہا ہے، ایٹمی ری ایکٹر کی سعودی عرب منتقلی کا معاملہ ڈونلڈ ٹرمپ کی زیر نگرانی چل رہا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں