جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سیکیورٹی کیمروں سے’چھیڑ چھاڑ‘ کی کوشش کی گئی: ترک اخبار -
The news is by your side.

Advertisement

جمال خاشقجی کے قتل کے بعد سیکیورٹی کیمروں سے’چھیڑ چھاڑ‘ کی کوشش کی گئی: ترک اخبار

استنبول : ترک میڈیا کا کہنا ہے کہ جمال خاشقجی کو چھپانےکے لیے سعودی عرب کے قونصل خانے کی انتظامیہ نے سیکیورٹی کیمروں کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کرنے کی کوشش کی تھی۔

تفصیلات کے مطابق ترک حکومت کی حمایتی صباح نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ دو اکتوبر کو جس دن جمال خاشقجی کو قتل کیا گیا، اس دن قونصل خانے کے اسٹاف نے کیمروں کو بند کرنے کی کوشش کی ، نیوز ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ قونصل خانے نے باہر قائم پولیس چیک پوسٹ کے کیمرے کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ کی تھی۔

دعویٰ کیا جارہا ہے کہ چھ اکتوبر کو قونصل خانے کا ایک اسٹاف ممبر سیکیورٹی چیک پوسٹ میں گیا اور اس نے ویڈیو سسٹم تک رسائی حاصل اور ڈیجیٹل لاک کوڈ سسٹم میں ڈالا، تاہم اس سے کیمروں نے اپنا کام بند نہیں کیے بلکہ ویڈیو دیکھنے تک بھی رسائی بند کردی۔

یاد رہے کہ سعودی عرب قونصل خانے میں جمال خاشقجی کے قتل کا اعتراف کرچکا ہے تاہم ابھی تک ان کی لاش کے حوالے سے کوئی بات حتمی طور پر سامنے نہیں آئی ہے کہ آیا اس کا کیا کیا گیا؟ خاشقجی کے بیٹوں نے سعودیہ سے اپنی والد کی میت کی حوالگی کا مطالبہ بھی کررکھا ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ ان کی لاش کے ٹکڑے کرکے کسی کیمیکل کے ذریعے اسے تلف کردیا گیا ہے۔

صباح نیوزایجنسی نے کچھ عرصے قبل دعویٰ کیا تھا کہ ’حکومتی حکام نے انکشاف کیا ہے کہ صحافی جمال خاشقجی کو استنبول کے سعودی قونصل خانے میں گلا گھونٹ کر قتل کیا گیا تھا اور بعد ازاں لاش کے ٹکڑے کر کے 5 بریف کیسوں میں رکھا گیا تھا۔ یہ بریف کیس سعودی حکام اپنے ہمراہ سعودی عرب سے لائے تھے۔

اخبار کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ حکام نے مزید بتایا کہ یکم اکتوبر کی رات ریاض سے استنبول پہنچنے والے 15 سعودی حکام میں سے مہر مرتب، صلاح اور طہار الحربی نے صحافی کے قتل میں کلیدی کردار ادا کیا اور انہی سعودی حکام نے صحافی کو قتل کر کے لاش کے ٹکڑے کیے تھے۔

یاد رہے کہ مہر مرتب سعوی ولی عہد محمد بن سلمان کے معاون خصوصی ہیں جب کہ صلاح سعودی سائنٹیفک کونسل برائے فرانزک کے سربراہ ہیں اور سعودی آرمی میں کرنل کے عہدے پر فائز ہیں۔ یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ صحافی کے قتل میں مبینہ طور پر ملوث تیسری اہم شخصیت طہار الحربی کو شاہی محل پر حملے میں ولی عہد کی حفاظت کرنے پر حال ہی میں لیفٹیننٹ سے سعودی شاہی محافظ کے عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔

اس سے قبل برطانوی خبر رساں ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ برطانیہ کی خفیہ ایجنسی کو امریکی اخبار سے منسلک صحافی و کالم نویس کے سعودی سفارت خانے میں سفاکانہ قتل سے تین ہفتے قبل ہی اغواء کی سازش کا علم ہوگیا تھا۔

خفیہ ایجنسی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ جمال خاشقجی کو سعودی عرب کے شاہی خاندان کے کسی اہم فرد کی جانب سے ریاست کی جنرل انٹیلیجنس ایجنسی کو اغواء کرکے ریاض لانے کے احکامات دئیے گئے تھے۔

برطانوی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ دی واشنگٹن پوسٹ سے منسلک صحافی جمال خاشقجی سعودی عرب کی قیادت میں کام کرنے والے عرب اتحاد کے یمن میں کیمیائی حملوں کی تفصیلات ظاہر کرنے والے تھے تاہم سعودی خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں نے انہیں پہلے ہی سفارت خانے میں بہیمانہ طریقے سے قتل کردیا۔

دوسری جانب ترک صدر رجب طیب اردوغان کا اصرار ہے کہ سعودی عرب بتائے کہ جمال کے قتل کا حکم کس نے صادر کیا تھا؟، ساتھ ہی وہ مصر ہے کہ قاتلوں پر استنبول کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے ۔ یاد رہے کہ سعودی عرب میں اس کیس کے حوالے سے اعلیٰ سطح پر گرفتاریاں دیکھنے میں آئی ہیں اور متعدد اہم افراد کو حراست میں لیا گیا ہے جن سے تفتیش جاری ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں