The news is by your side.

Advertisement

سوات کی دو حصوں میں تقسیم‘ وقت کی ضرورت؟

دہشت گردی ،سیلاب اور زلزلے سے متاثرہ سوات میں ایک اور ایشو نے سر اٹھالیا ہے اور وہ ہے سوات کی دو حصوں میں تقسیم ،جس پر سوات کے سیاسی جماعتیں ،سماجی حلقے اور سول سوسایٹی سمیت دیگر شعبے بھی دو حصوں میں تقسیم ہوگئے ہیں اور معاملہ روز بروز زور پکڑتا جا رہا ہے ،اس سلسلے میں لوئر اور اپر سوات میں جرگوں اور مشاورت کا سلسلہ جاری ہے،سوات کی آبادی اس وقت تقریبا تیس لاکھ ہے اور ایک وسیع رقبے پر پھیلا ہوا ہے جس میں لنڈاکے سے لیکر کالام ،پیوچار ،مرغزار اور شانگلہ ٹاپ اور کلیل کنڈاو تک پہاڑی علاقے شامل ہے ،اور اگر اس کو دو حصوں میں تقسیم کیا جائیں تو تقریبا پندرہ لاکھ آبادی لوئر سوات اور پندرہ لاکھ اپر سوات کی ابادی ہوگی جبکہ34 یونین کونسل لوئر اور 33 یونین کونسل اپر سوات میں آجائیں گے۔

اس وقت مالاکنڈ ڈویژن کی آبادی تقریبا 69 لاکھ ہے جس میں مالاکنڈ کی آبادی تقریبا چھ لاکھ ،بونیر کی آبادی تقریبا 6 لاکھ ،شانگلہ کی پانچ لاکھ ،دیر لوئر کی 8 لاکھ ،دیر آپر کی 9 لاکھ اور چترال کی آبادی تقریباپانچ لاکھ ہے جبکہ مالاکنڈ ڈویژن میں کل 22 صوبائی اسمبلی اور آٹھ قومی اسمبلی کی نشستیں ہیں جن میں سوات میں سات،مالاکنڈ میں دو ،بونیرتین ،شانگلہ دو ،دیر لوئر3 ،دیر اپر3 اور چترال کے دو نشستیں شامل ہے جبکہ آٹھ قومی اسمبلی کے نشستوں میں دو سوات اور باقی اضلاع کے ایک ایک ہیں اور اب مارچ سے جو مرد م شماری شروع کی جارہی ہے‘ اس میں نشستوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا ۔ اگر مالا کنڈ ڈویژن کو صوبے کے دیگر اضلاع کے تناسب سے دیکھا جائے تو اس وقت آبادی کے لحاظ سے پورے صوبے میں تیسرے اور رقبے کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہیں تو اب وقت کے تقاضے کو مد نظر رکھنا ضروری ہے۔

اس سلسلے میں پی ٹی آئی کے حلقہ پی کےسے تعلق رکھنے والے ایم پی اے اورڈیڈک کمیٹی کے چیئر مین فضل حکیم کے دفتر میں ایک بڑا جرگہ ہوا جس میں تمام سیاسی پارٹیوں کے ضلعی صدور نے شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان مسلم لیگ ن کے رہنماء اور ضلعی ناظم محمد علی شاہ نے ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ اس سے سوات کی تاریخی حیثیت کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے اور اگر حکومت سوات کی ترقی کیلئے اتنی پریشان ہے توسب سے پہلے انہیں یہاں کے مسائل کی طرف توجہ دینی چا ہیں کیونکہ اس وقت بالائی سوات کے عوام مسائل کیلئے ترس رہے ہیں اور وہاں پر بچوں کو سکولوں میں چھت تک میسر نہیں ہے اور بچے کھلے آسمان تلے تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہے ‘ دوسری جانب تقسیم کی صورت میں انتظامی افسران خیموں میں بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں گے ۔

post

پی پی پی کے ضلعی صدر شمشیر علی خان نے کہا کہ اس بارے میں عوامی رائے کو تقویت دی جائیں اگر عوام الگ ضلع چاہتے ہیں تو پھر انکے اواز کو تقویت دینی چاہیں ،سوات ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے اپر سوات کو الگ کرنے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر اپر سوات کو الگ کیا گیا تو ہم پرانے سوات یعنی سوات ،بونیر ،شانگلہ اور کوہستان کو الگ ڈویژن اور ملاکنڈ ڈویژن کو صوبے کے قیام کیلئے تحریک شروع کردینگے اور یہ ہمارا مطالبہ ہوگا۔

جماعت اسلامی کے ضلعی امیر محمد امین نے جرگے سے خطاب میں کہا کہ وہاں کے عوام کے رائے کا احترام کیا جائیں اور اگر وہ الگ ضلع مانگتے ہیں تو اس پر اعتراض ہمارا حق نہیں بلکہ ان لوگوں کی رائے کا احترام کرنا چاہیں۔

پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے صوبائی ڈپٹی جنرل سیکرٹری اور تحصیل کونسلر ڈاکٹر خالد محمود خالد نے کہا کہ ہم یونٹوں کو زیادہ کرنے کے حامی ہیں اور انتظامی یونٹوں کی زیادہ ہونے سے عوامی مسائل میں کمی آئے گی ۔ سوات بار کے صدر حضرت معاذ ایڈوکیٹ نے سوات کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سخت مخالفت کی اور کہا کہ اس کی کسی بھی صورت تقسیم کرنے کی اجازت نہیں دینگے ،عوامی نیشنل پارٹی نے بھی عوامی رائے کا احترام کرنے پر زور دیتے ہوئے خواجہ خان اور اے این پی کے ترجمان عبداللہ یوسفزئی نے کہا کہ اگر وہاں کے عوام الگ صوبہ کا مطالبہ کر رہے ہیں تو پھر ان کو ان کا حق دینا چاہیے۔

اس موقع پر ایم پی اے فضل حکیم نے کہا کہ ہم اپنے ذاتی رائے کو عوام پر مسلط نہیں کرینگے بلکہ اپ لوگوں کو اس وجہ سے بلا یا گیا ہے کہ آپ اپنے رائے سے ہمیں آگاہ کریں اور تمام فیصلے آپ لوگوں کے مشاورت اور عوام کی رائے سے کئے جائیں گے۔ اس سلسلے میں بالائی سوات میں بھی سیاسی جماعتوں اور عوامی جرگوں کا انعقاد کیا گیا جس پر لوگوں نے الگ ضلع بنانے کی حمایت کی اور کہا کہ اگر اپر سوات الگ ضلع بن جائیں تو اس سے یہاں کے عوام کے مسائل میں کافی حد تک کمی آجائیگی ۔

اس سلسلے میں صوبہ خیبر پختونخوا کے پارلیمانی سیکرٹری اینٹی کرپشن ایم پی اے ڈاکٹر حیدر علی خان نے کہا ہے کہ اپر سوات کو الگ ضلع اور پرانے سوات کو ڈویژن کا درجہ دینا وقت کا تقاضہ ہے ، اپر سوات کو الگ ضلع بنانا سواتیوں کو تقسیم کرنا نہیں بلکہ دوسرے انتظامی یونٹ کا قیام عمل میں لانا ہے ، اپر سوات کے عوام نے الگ ضلع کے حق میں رائے دی ہے اور ان کا مطالبہ ہے کہ اپر سوات کو الگ ضلع کا درجہ دیا جائے اس پر کسی کو اعتراض نہیں کرنا چاہئے ریفرنڈم کی بھی ضرورت نہیں ہے۔

علاقے میں تمام سیاسی جماعتوں ، تاجر برادری ، منتخب بلدیاتی نمائندوں اور ہر مکتبہ فکر کے لوگوں کے گرینڈ جرگہ میں الگ ضلع کے حق میں رائے دی گئی ہے الگ ضلع کے قیام سے علاقے میں ترقی و خوشحالی کی نئے راہیں کھل جائیں گی ، عوامی رائے کا احترام کیا جائے جو لوگ اس حوالے سے پروپیگنڈے کر رہے ہیں اور اس نان ایشو کو ایشو بنا کر سیاسی پوائنٹ سکورنگ میں مصروف ہیں وہ زمینی حقائق مسخ کر رہے ہیں وہ گزشتہ روز سوات پریس کلب میں میٹ دی پریس سے خطاب کر رہے تھے انہوں نے کہا کہ اپرسوات کو الگ ضلع کادرجہ دینا علاقے کے عوام کا ایک دیرینہ مطالبہ ہے ، اپرسوات کو ضلع اورسوات کو ڈویژن کادرجہ دیناوقت کی ضرورت ہے ، 30لاکھ آبادی میں دوسرا انتظامی یونٹ بنانا علاقے کے عوام کی بہتر مفاد میں ہے ، مینگورہ شہر اور سرکاری دفاتر اورہسپتالوں پردباؤ کم کرنے کیلئے اپرسوات کو ضلع کادرجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔

بعض لوگ اس نان ایشو کو ایشو بناکر پوائنٹ سکورنگ کررہے ہیں ڈاکٹر حیدرنے واضح ہے کہ ہم نے گزشتہ حکومت میں بھی اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے جدوجہد کی تھی ۔ لیکن اس وقت ضلعی ہیڈکوارٹر کے مسئلے کی وجہ سے یہ مسئلہ تعطل کاشکاررہا۔ اب صوبائی حکومت اس مسئلہ کو حل کرنے کیلئے سنجیدہ ہے۔ اورہم نے سرکاری دفاتر چاروں تحصیلوں میں یکساں تقسیم کرنے پراتفاق کیاہے اوراپرسوات کے عوام اوراس حوالے سے عوامی رائے کااحترام کیاجائے، جو لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں اصل وہ علاقے کے عوام کی رائے تسلیم کرنے سے انکاری ہے انہوں نے کہا کہ سوات کو دواضلاع میں تقسیم کرنا علاقے کے ترقی اور خوشحالی کیلئے ضروری ہے انہوں نے کہا کہ آج کل مینگورہ شہرمیں ٹریفک کے حوالے سے جوحشر ہے اس کا کیابنے گا۔ پورے سوات میں تجاوزات کے خلاف کارروائی ہوتی، سڑکیں اوربازاریں کشیدہ ہوتی، لیکن مینگورہ شہراس طرح تنگ ہے جو دورجدید کابوجھ برداشت نہیں کرسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اپرسوات کوالگ ضلع بنانے کیلئے صوبائی حکومت نے 13ارب روپے مختص کئے ہیں جو علاقے کے عوام کی بہتر مفاد کیلئے خرچ ہوں گے ، جوعلاقے کے ترقی اورخوشحالی کے حولاے سے شروعات ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر اس کے علاوہ مینگورہ میں ٹریفک دباؤ کم کرنے کا کسی کے ساتھ کوئی تجویز ہو وہ بھی سامنے لایا جائے صوبائی حکومت نے ناجائز تجاوزات کیخلاف مہم شروع کر رکھی تھی زیادہ تر بازاروں کو وسیع کر دیا گیا ہے لیکن مینگورہ شہر کے بازاروں کو وسیع کرنے کی مخالفت کی گئی جو کہ جوں کا توں پڑا ہے اس بات میں کوئی حقیقت نہیں کہ ہم اپر سوات کا مطالبہ اس لئے کر رہے ہیں کہ ہمیں اپنی جائیدادوں کی نرخ بڑھانی ہے حالانکہ جہاں دفاتر کا قیام عمل میں لایا جائے گا وہاں ہمارا کوئی جائیداد نہیں ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ سابقہ حکومت میں بھی ہوچکا تھا لیکن ہیڈ کوارٹر پر مسئلہ پیدا ہوا تھا جس کے بعد اس مسئلے کو سرد خانے کی نذر کیا گیا لیکن اب ہم نے اسے دوبارہ اُٹھایا اور ہیڈ کوارٹر کا مسئلہ بھی ختم ہو چکا ہے انہوں نے کہا کہ باہمی مشاورت کے ذریعے اپر سوات کے تمام علاقوں میں سرکاری دفاتر بنائیں گے ۔

چونکہ موجودہ حکومت کا اب صرف ایک سال کا قلیل عرصہ رہ چکا ہے اور اگر دیکھا جائیں تو آخری سال ترقیاتی منصوبوں کا سال ہوتا ہے کیونکہ چاہیں مرکزی حکومت ہو یا صوبائی حکومت وہ عوام کو رام کرنے کیلئے ترقیاتی منصوبوں کا اغاز کرتے ہیں اسلئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اگر حکومت نے سوات کی تقسیم کا فیصلہ کرنا ہے تو اس پر عمل درآمد کا آغاز کیا جائیں اور اگر نہیں کرنا ہے تو پھر ممبران اسمبلی اور عوام کو اس مسئلے پر وقت ضائع نہیں کرنا چاہیں اور پہلے سے پسے ہوئے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے ترجیحی بنیادوں پر میگا پراجیکٹس اور ترقیاتی منصوبوں پر خصوصی توجہ دینی جاہیں تاکہ یہاں کے عوام کے مشکلات میں کسی حد تک کمی آسکے ۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں