The news is by your side.

Advertisement

فارن کرنسی اکاؤنٹ قوانین، صارفین کے سوالات پر اسٹیٹ بینک کے تفصیلی جوابات

کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) نے فارن کرنسی وفاقی حکومت کی جانب سے جاری ہونے والے فارن کرنسی رولز 2020 کے حوالے سے اہم وضاحت جاری کردی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ترجمان کی جانب سے فارن کرنسی رولز 2020 کی جاری کردہ وضاحت میں بتایا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992 کے تحت فارن کرنسی اکاؤنٹس رولز 2020ء جاری کیے۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق زرمبادلہ کے قواعد و ضوابط کے تحت اکاؤنٹ کے حامل صارفین کے لیے عمومی یا خصوصی اجازت ناموں میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی، فارن ایکسچینج مینوئل کے چھٹے باب کے پیراگراف iv کے مطابق بیرونی کرنسی والے کھاتوں میں بیرون ملک سے موصولہ ترسیلات زر، پاکستان سے باہر جاری کردہ ٹریولرز چیک اور حکومت پاکستان کی جاری کردہ تمسکات کی انکیش منٹ کی رقوم جمع کرائی جاسکتی ہیں۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق پاکستان میں مقیم کسی بھی شہری کے بیرونی کرنسی اکاؤنٹ میں بھی نقد بیرونی کرنسی جمع کرائی جاسکتی ہے، جس کے لیے اُس کا ٹیکس فائلر ہونا ضروری ہے۔

ایس بی پی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’حال ہی میں جاری کردہ قواعد و ضوابط کا مقصد انفرادی بیرونی کرنسی اکاؤنٹس کے آپریشن کے لیے ایک ضوابطی فریم ورک فراہم بنانا ہے تاکہ اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ نظام کو مضبوط بنایا جائے اور اسے مارکیٹ سے مزید ہم آہنگ کیا جائے‘۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے بینکوں کو فارن کرنسی کی خریدو فروخت کی اجازت دے دی

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ’ اسٹیٹ بینک آئندہ بھی تمام بیرونی کرنسی کی ضروریات کو  پورا کرنے کی خاطر بینکاری چینلز کے استعمال میں اضافے کے لیے سہولت فراہم کرنے کے اقدامات کرتا رہے گا‘۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے فارن کرنسی اکاؤنٹس رولز کے بارے میں صارفین کی جانب سے پوچھے جانے والے اکثر سوالات کا جواب بھی دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے صارفین کے لیے ایک لنک فراہم کیا جس پر وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری ہونے والا ایس آر او موجود ہے۔

ایس بی پی نے صارفین کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کا تفصیل سے جواب دیا۔

صارفین کی جانب سے بہت زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہ تھا کہ ’اگر موجودہ فارن کرنسی ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی تو وزارت خزانہ کی جانب سے ایس آر او جاری کرنے کی کیا ضرورت تھی؟

اسٹیٹ بینک نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ پروٹیکشن آف اکنامک ریفارمز ایکٹ 1992ء (PERA) میں 2018ء میں ترامیم کی گئیں۔ اس قانون میں کی گئی ترامیم میں دیگر کے علاوہ یہ ترمیم بھی شامل تھی کہ وفاقی حکومت فارن کرنسی اکاؤنٹس میں رقوم جمع کرانے اور نکلوانے کے بارے میں قواعد و ضوابط بنا سکتی ہے۔ ان قواعد و ضوابط کے اجرا کا مقصد اسٹیٹ بینک کے لیے یہ گنجائش فراہم کرنا ہے کہ وہ فارن کرنسی اکاؤنٹس میں ڈپازٹس کے حوالے سے وہ ہدایت جاری کرسکے جو پہلے سے موجود ہیں اور مستقبل کے حوالے سے بھی احکامات جاری کرے۔

اس طرح ان ضوابط کا مقصد انفرادی فارن کرنسی اکاؤنٹس کے آپریشن کے لیے فریم ورک فراہم کرنا ہے۔ اس کے علاوہ ان ضوابط سے زر مبادلہ کے نظام کو مضبوط بنانے اور بینکاری چینلز کے ذریعے اپنی زر مبادلہ کی ضروریات پوری کرنے میں مدد دینے سے متعلق اسٹیٹ بینک کا مینڈیٹ منضبط شکل میں آگیا ہے۔

سوال 2: کیا اسٹیٹ بینک صورت حال کو واضح کرنے کے لیے ان ضوابط کے مطابق فارن کرنسی اکاؤنٹس کے لیے کوئی گائیڈلائنز جاری کرے گا؟

جواب:فارن کرنسی اکاؤنٹس سے متعلق اسٹیٹ بینک کے موجودہ قواعد و ضوابط میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی ہے اور یہ قواعد  وضوابط وزارت خزانہ کے جاری کردہ ضوابط سے متصادم نہیں ہیں۔

سوال 3: کیا ان ضوابط کا غیرمقیم پاکستانیوں کے لیے حال ہی میں متعارف کرائے گئے روشن ڈجیٹل اکاؤنٹس (RDA) پر کوئی اثر پڑے گا؟

جواب: نہیں۔ روشن ڈجیٹل اکاؤنٹس غیر مقیم پاکستانیوں کے لیے علیحدہ اسکیم ہے جو فارن کرنسی اور پاکستانی روپے کے اکاؤنٹس دونوں کے لیے ہے۔ ان اکاؤنٹس میں رقم وصولی کی جاسکتی ہیں لیکن یہ رقوم پاکستان کے اندر سے نہیں بھیجی جاسکتیں۔

سرمایہ کاری کی آمدنی، اس پر منافع اور ان اکاؤنٹس میں کوئی بھی بیلنس کسی منظوری کی ضرورت یا رکاوٹ کے بغیر مفت بیرون ملک منتقل کیا جاسکتا ہے۔

سوال نمبر 4: وزارت خزانہ کے جاری کردہ فارن کرنسی اکاؤنٹس رولز کے مطابق ایکسچینج کمپنیوں سے خریدی گئی فارن کرنسی کو فارن کرنسی اکاؤنٹ میں جمع کرانے پر پابندی عائد کی گئی ہے، جو فارن کرنسی اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کا اصل ذریعہ ہے۔ کیا فارن کرنسی اکاؤنٹ میں اب بھی ایکسچینج کمپنیوں سے خریدی گئی فارن کرنسی کریڈٹ کی جاسکتی ہے؟

جواب: رولز کے پیرا  3 کی شق (4) میں کہا گیا ہے کہ ’فارن کرنسی اکاؤنٹ میں کسی مجاز ڈیلر، ایکسچینج کمپنی یا منی چینجر سے خریدا گیا زر مبادلہ کریڈٹ نہیں کیا جائے گا ماسوائے اس کے کہ اسٹیٹ بینک کسی قانون کے تحت عمومی یا خصوصی اجازت دے‘۔

واضح کیا گیا ہے کہ اسٹیٹ بینک فائلرز کو ان کے فارن کرنسی اکاؤنٹ میں فارن کرنسی جمع کرانے کی عمومی اجازت پہلے ہی دے چکا ہے اور اسی طرح ایکسچینج کمپنیز مینوئل کے تحت ایکسچینج کمپنیوں سے خریدی گئی فارن کرنسی کے بارے میں بھی عمومی اجازت موجود ہے اس لیے فائلرز اپنے فارن کرنسی اکاؤنٹس میں نقد جمع کرانے کا سلسلہ جاری رکھ سکتے ہیں جبکہ ٹیکس ریٹرن فائل نہ کرنے والوں پر پابندی ہے۔

سوال 5: کیا میرے لیے اپنے بچوں کی تعلیم کی فیس کے لیے رقم بھیجنا مشکل ہوجائے گا؟

جواب:نہیں۔ اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ موجودہ طریقہ کار کے مطابق بچوں کی تعلیمی فیس کے لیے رقم کسی فرد کے پاکستانی روپے نیز فارن کرنسی اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجی جاسکتی ہے۔

اسٹیٹ بینک نے واضح کیا کہ صارف ایک درخواست فارم پر فیس واؤچر کے ہمراہ  وصولی پر بینک صارف کے اکاؤنٹ کو ڈیبٹ کرتا ہے اور فیس بیرون ملک تعلیمی ادارے کو منتقل  کردیتا ہے، اس طرح فیس ادائیگی کی اجازت ہے جس میں پروسیسنگ چارجز، ٹیوشن فیس، رہائش سمیت دیگر اخراجات بھی شامل ہیں۔

سوال 6: طبی علاج کے لیے ترسیلات کیسے بھیجی جاسکتی ہیں؟

جواب: اس حوالے سے کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ موجودہ طریقہ کار کے مطابق صارف کی جانب سے ایک درخواست کے ہمراہ اسپتال؍مطب کی انوائس؍ضروری دستاویزات کی وصولی پر بینک صارف کے اکاؤنٹ کو ڈیبٹ کردے گا اوررقوم بیرون ملک اسپتال یا؍ مطب کو بھیج دے گا۔

سوال 7: کیا فری لانسرز انفارمیشن ٹیکنالوجی (آئی ٹی)  برآمد کنندگان کے لیے کچھ اقدامات پر غور ہورہاہے؟

جواب:اسٹیٹ بینک فری لانس کمیونٹی اور آئی ٹی برآمد کنندگان کو پچھلے کئی برسوں سے مدد فراہم کرتا رہا ہے جس کا مقصد ان کے کاروبار خصوصاً برآمدات کو فروغ دینا ہے۔

آئی ٹی خدمات کی برآمد کرنے والے ادارے موجودہ قواعد کے تحت اپنا خصوصی کرنسی اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور اپنی زرمبادلہ کی ضروریات جیسے بیرون ملک ایجنٹوں، خریداروں کو کمیشن ، ڈسکاؤنٹ کی ادائیگی، تشہیر جیسے اخراجات ، ہارڈویئر، سوفٹ ویئر کی درآمد، بیرونی کنسلٹنٹ کی فیس وغیرہ کی ادائیگی اور برآمدی آمدنی کا 35 فیصد حصہ اس اکاؤنٹ میں رکھ سکتے ہیں۔

فری لانسرز کو مدد دینے کے لیے اسٹیٹ بینک نے پاکستان ریمی ٹنس کے لیے خصوصی چینلز کھولے ہیں تاکہ وہ اپنی خدمات کی آمدنی سہولت سے وصول کرسکیں۔ اس چینل کو استعمال کرکے ترسیلات وصول کرنے والے فری لانسرز کو اجازت ہے کہ وہ پاکستان کے اندر  روپے میں کرنسی اکاؤنٹ کھول کر برآمدی آمدنی کا 35 فیصد تک منتقل کرسکتے ہیں۔مزید یہ کہ جو فری لانسرز اپنی خدمات کی برآمد کررہے ہوں اور فارن کرنسی میں ان کو ادائیگی ہوتی ہو وہ اسپیشل فارن کرنسی رٹنشن اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اور خدمات کی برآمد سے فارن کرنسی میں موصول ہونے والی  آمدنی کا 35 فیصد تک رکھ سکتے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آئی ٹی خدمات کی فروغ کے لیے مزید اقدامات کرتا رہے گا۔

سوال 8: اسٹیٹ بینک کھاتے داروں کو فارن کرنسی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مستقبل میں کیا اقدامات کرنے کا ارادہ رکھتا ہے؟

جواب: اسٹیٹ بینک کا وسط مدتی ہدف بینکاری میں ڈجیٹائزیشن کو فروغ دینا، نقد کے استعمال  کو کم  کرنا اور معمول کی لین دین کے لیے کسی فرد کو برانچ جانے سے بچانا ہے۔ اس سلسلے میں اسٹیٹ بینک مالی لین دین کے لیے بینکاری چینلز کے استعمال کی حوصلہ افزائی کرتا رہے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں