The news is by your side.

Advertisement

زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں کمی، خطرے کی گھنٹی بج گئی

اسلام آباد: ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 21ماہ کے کم ترین سطح پر آگئے ہیں۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری اعدادو شمار کے مطابق یکم اپریل کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر میں 72کروڑ 80لاکھ ڈالر کی نمایاں کمی آئی ہے۔

جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک کے ذخائر کی مالیت 11ارب31کروڑ92لاکھ ڈالر ہوگئی ہے جو 26جون 2020کے بعد اسٹیٹ بینک کے کم ترین زرمبادلہ ذخائرہیں۔

اعداد وشمار کے مطابق دیگر کمرشل بینکوں کے ذخائر میں بھی اس دوران 35کروڑ ڈالر کی کمی آئی جس کے نتیجے میں مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر میں ایک ہفتے میں ہونے والی کمی ایک ارب7کروڑ80لاکھ ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔

واضح رہے کہ زرمبادلہ کے مجموعی ذخائر 2 ہفتوں کے دوران 3 ارب 96 کروڑ 28 لاکھ ڈالر کم ہوچکے ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت نے چین سے حاصل کردہ سافٹ لونز اور دیگر بیرونی قرضوں کی مد میں 2 ارب 90 کروڑ ڈالرز سے زائد کی ادائیگیاں کی تھیں۔

یہ بھی پڑھیں: وقت سے پہلے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان، شرح سود میں اضافہ

اس سے قبل آج اسٹیٹ بینک نے وقت سے پہلے نئی مانیٹری پالیسی جاری کرتے ہوئے شرح سود میں 250 بیسس پوائنٹس کا اضافہ کیا تھا۔

ایس بی پی کا کہنا تھا کہ پالیسی ریٹ 250 بیسس پوائنٹس بڑھنے سے 12.25 فی صد ہو گیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کا کہنا تھا کہ زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس کے بعد سے مہنگائی کا منظرنامہ مزید بگڑ گیا ہے اور بیرونی استحکام کو درپیش خطرات بڑھ گئے ہیں، امکان ہے کہ اجناس کی عالمی قیمتیں بشمول تیل طویل تر عرصے تک بلند رہیں گی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں