The news is by your side.

Advertisement

اسٹیٹ بینک نے شعبہ بینکاری کا سہ ماہی کارکردگی جائزہ جاری کردیا

کراچی: بینک دولت پاکستان نے 30ستمبر 2015ء کو ختم ہونے والی سہ ماہی کے لیے شعبہ بینکاری کا سہ ماہی کارکردگی جائزہ آج جاری کردیا گیا۔

ستمبر 2015ء میں اثاثوں پر منافع (ROA) قبل از ٹیکس بڑھ کر 2.6فیصد ہوگیا جبکہ ستمبر 2014ء میں 2.2فیصد تھا۔ تاہم سال کے اختتام تک متاثرہ جزدان کے عوض تموین (provision)کی مد میں ایڈجسٹمنٹ منافع میں مزید نمو کو روک سکتی ہے، جائزے میں بتایا گیا کہ بینکاری شعبے کا سال تا تاریخ منافع بعد از ٹیکس (جنوری تا ستمبر) 148ارب روپے رہا جبکہ 2014ء کے دوران 163ارب روپے تھا۔

ستمبر 2015ء کی سہ ماہی میں بینکاری شعبے کی اثاثہ جاتی بنیاد میں2.1فیصد کا معمولی اضافہ ہوا۔ مالیاتی ضروریات کی بنا پر سرکاری شعبے میں قرضے کی طلب مضبوط رہی جبکہ نجی شعبے کے قرضوں میں 0.4فیصد کی برائے نام موسمی کمی آئی۔ ملک کے قرضے کے چکر (cycle) کے مطابق ڈپازٹس بھی 2.6فیصد کم ہوگئے۔ چنانچہ بینکوں نے قرض گیری پر زیادہ انحصار کیا اور قرض گیری اس سہ ماہی میں 38فیصد بڑھ گئی۔

بینکاری شعبے کی صحت کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ اثاثہ جاتی معیار مستحکم رہا کیونکہ غیر فعال قرضے تقریباً کسی تبدیلی کے بغیر 630ارب روپے رہے۔ تاہم قرضوں میں موسمی کمی کی بنا پر غیرفعال قرضوں اور مجموعی قرضوں کا تناسب (انفیکشن تناسب) جو جون 2014ء میں 12.4فیصد تھا ستمبر 2015ء میں تھوڑا سا بڑھ کر 12.5فیصد ہوگیا۔

تاہم متاثرہ قرضوں کے عوض جمع شدہ تموین کے باعث خالص غیرفعال قرضوں اور خالص مجموعی قرضوں کا تناسب جو جون 2015ء میں 2.7فیصد تھا کم ہوکر 2.5فیصد ہوگیا۔ شرح کفایت سرمایہ (CAR) کے بڑھ کر 18.2فیصد ہوجانے کے باعث (جون 2015ء میں 17.2فیصد تھی)  بینکاری شعبے کی ادائیگی قرض کی صلاحیت مزید بہتر ہوگئی، اہم بات یہ ہے کہ بینکاری نظام کو بلند سطح کے سرمائے کا تحفظ حاصل ہے جو ہنگامی حالات میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں