The news is by your side.

Advertisement

اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے کوششیں جاری ہیں، اسٹیٹ بینک

کراچی: بینک دولت پاکستان نے عوام کے ذہنوں سے شکوک اور ابہام رفع کرنے کے لیے پاکستان میں اسلامی بینکاری کے فروغ اور ترقی کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت کی مسلسل کوششوں کے باعث بینکاری صنعت کے کل ڈپازٹس میں اسلامی بینکاری کا حصہ 30جون 2015ء تک بڑھ کر 12.8فیصد ہوگیا ہے اور گذشتہ 12برسوں سے 50فیصد سے زائد کی مجموعی اوسط شرح نمو سے بڑھتا جا رہا ہے۔اس وقت 5 مکمل اسلامی بینک، ذیلی ادارہ برائے اسلامی بینکاری اور 17بینکوں کی اسلامی بینکاری کے لیے مختص برانچیں ملک میں خدمات انجام دے رہی ہیں، اور پورے ملک میں ان برانچوں کی تعداد 1700 سے زائد ہے۔

اسٹیٹ بینک کے شریعہ بورڈ کی کڑی نگرانی میں پاکستان میں اسلامی بینکاری قرآن حکیم کے احکام اور نبی کریم ﷺ کی سنت کی بنیاد پر مضبوطی سے قائم ہے۔اسٹیٹ بینک نے اپنے شریعہ بورڈ کے فیصلوں کے مطابق اسلامی بینکاری کی شریعت سے ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ضوابطی اور نگرانی کا فریم ورک بھی تیار کیا ہے۔ اس کے علاوہ اسلامی بینکاری شعبے میں سیالیت کے انتظام کے لیے شریعت سے ہم آہنگ بازار زر کے سودوں کا بھی اہتمام کیا ہے جو اسلامی دنیا میں بالکل منفرد ہے۔ اسٹیٹ بینک شریعہ بورڈ نے ماضی میں حکومت پاکستان اجارہ صکوک کے ڈھانچے کی بھی منظوری دی اور مستقبل میں بھی اجرا سے قبل ایسے تمام ڈھانچوں کی منظوری اسٹیٹ بینک کا شریعہ بورڈ دے گا۔

دسمبر 2013ء میں حکومت پاکستان نے ملک میں اسلامی بینکاری کے فروغ کے لیے ایک اسٹیئرنگ کمیٹی تشکیل دی اور جناب سعید احمد کو اس کمیٹی کا چیئرمین مقرر کیا۔ بعد میں جناب سعید احمد کو اسلامی بینکاری کے فروغ کی کاوشوں کی قیادت کے لیے اسٹیٹ بینک کا ڈپٹی گورنر مقرر کیا گیا۔ اس طرح اسلامی مالیات کی ترقی کے لیے اسٹیئرنگ کمیٹی اور اسٹیٹ بینک کی کوششوں میں ہم آہنگی پیدا ہوگئی۔ ماضی میں ایسی کوئی نظیر نہیں کہ اسٹیٹ بینک میں ایک ڈپٹی گونر کو اسلامی بینکاری کا بھرپور مینڈیٹ دے کر مقرر کیا گیا ہو۔ بعد ازاں، اسلامی بینکاری کے حوالے سے بہتر رابطہ کاری کی خاطر انہیں دیگر شعبے بھی سونپے گئے۔

اسٹیئرنگ کمیٹی نے اپنا پہلا سال مکمل ہونے پر اپنی پیش رفت کی عبوری رپورٹ سفارشات کے ساتھ وفاقی حکومت کو پیش کر دی ہے۔ وزیر خزانہ محمد اسحاق ڈار نے اسٹیئرنگ کمیٹی کا دورانیہ مزید ایک سال بڑھا دیا تھا جو دسمبر 2015ء میں پورا ہو جائے گا، اور کمیٹی اپنی حتمی رپورٹ جنوری 2016ء تک وفاقی حکومت کو پیش کر دے گی۔

اسٹیٹ بینک کی ان کوششوں کے نتیجے میں 2020ء تک اسلامی بینکاری کا حصہ بڑھ کر 20 فیصد ہو جانے کی توقع ہے اور اس کے بعد اسلامی بینکاری تیز رفتار نمو حاصل کر لے گی۔

پاکستان میں اسلامی بینکاری کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جارہا ہےجس کا ثبوت بہت سے اسلامی فنانس ایوارڈز ہیں جو ملک میں اسلامی بینکاری کے مختلف اداروں کو دیے جاچکے ہیں بشمول بحرین کے حالیہ گلوبل اسلامک فنانس ایوارڈز(GIFA) جو وزیر خزانہ جناب اسحاق ڈار کو ملک میں اسلامی بینکاری و مالیات کے فروغ کے لیے وزارت خزانہ کے مشاورتی کردار کے اعتراف میں خصوصی طور پر دیا گیا۔مزید یہ کہ تین پاکستانی بینکوں کو اس سال یہ ایوارڈ ملا۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں