کراچی : نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا آج اعلان کرے گا، جس میں شرحِ سود ایک بار پھر سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان آج نئے سال کی پہلی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا، جس پر مالیاتی منڈیوں اور کاروباری حلقوں کی نظریں مرکوز ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک شرحِ سود میں 50 سے 100 بیسز پوائنٹس تک کمی کرسکتا ہے، جس کے نتیجے میں بنیادی شرحِ سود ایک بار پھر سنگل ڈیجٹ میں آنے کا امکان ہے، اس وقت ملک میں پالیسی ریٹ 10.50 فیصد پر موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق مہنگائی میں کمی اور معاشی اشاریوں میں بہتری کے باعث شرح سود میں نرمی کی گنجائش پیدا ہوئی ہے۔ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2025 میں کنزیومر پرائس انڈیکس (سی پی آئی) مہنگائی کی شرح 6.5 فیصد ریکارڈ کی گئی۔
اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ دسمبر 2025 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 24 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہا، جبکہ رواں مالی سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران مجموعی کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ایک ارب 17 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔
ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر بڑھ کر 21 ارب 25 کروڑ 82 لاکھ ڈالر ہوچکے ہیں، جن میں سے اسٹیٹ بینک کے پاس موجود ذخائر 16 ارب 8 کروڑ 77 لاکھ ڈالر ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شرح سود میں کمی کی جاتی ہے تو اس سے کاروباری سرگرمیوں میں تیزی، سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کو سہارا ملنے کا امکان ہے، تاہم حتمی فیصلہ اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کرے گی۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


