قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کی ملزم شاہ حسین کی بریت کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور
The news is by your side.

Advertisement

قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کی ملزم شاہ حسین کی بریت کیخلاف اپیل سماعت کیلئے منظور

لاہور : سپریم کورٹ نے قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی کی شاہ حسین کی بریت کے خلاف اپیل سماعت کے لیے منظور کر لی، عدالت نے قرار دیا کہ واقعہ دن کے وقت ہوا , رات ہوتی تو شک کی کنجائش باقی تھی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 2رکنی بینچ نے خدیجہ صدیقی حملہ کیس کی سماعت کی۔

سپریم کورٹ نے اپیل سماعت کے لیے باضابطہ طور پر منظور کرتے ہوئے ملزم شاہ حسین کو 1 لاکھ کے مچلکے جمع کروانے کی ہدایت کی۔

بینچ کے سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے دوران سماعت ریماکس دیتے ہوئے کہا کہ کیا وجہ تھی کہ خدیجہ صدیقی اور اس کی چھوٹی بہن نے پوری دنیا چھوڑ کر ملزم شاہ حسین پر الزام لگایا، دونوں قانون کے طالبعلم ہیں، اس واقعہ کے بعد دونوں نے قانون سے متعلق کافی کچھ سیکھ لیا ہوگا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قرار دیا کہ واقعہ دن کے وقت ہوا رات ہوتی تو شک کی گنجائش باقی تھی۔

یاد رہے کہ خدیجہ صدیقی پر حملے کا واقعہ مئی 2016 میں پیش آیا تھا، اس وقت ملزم شاہ حسین نے نجی لا کالج کی طالبہ خدیجہ صدیقی پر ریس کورس کے علاقے میں مبینہ طور پر چاقوؤں سے حملہ کیا تھا، طالبہ کو ملزم کے وار سے چاقو کے 23 زخم آئے تھے۔

ملزم شاہ حسین کو دو عدالتوں سے سزا سنائی گئی تاہم لاہور ہائی کورٹ نے ملزم کو بری کرنے کا حکم دیا۔

جس چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے ازخود نوٹس لیا تاہم خدیجہ صدیقی کی جانب سے بریت کے خلاف اپیل کیے جانے کی وجہ چیف جسٹس پاکستان نے ازخود نوٹس نمٹا دیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں