The news is by your side.

Advertisement

گواہی میں تضادات پر قتل کے ملزمان 12 سال بعد بری

اسلام آباد: چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے قتل کے 2 ملزمان کو گواہی میں تضاد کے باعث بری کرنے کا حکم دے دیا، ملزمان کو عمر قید سنائی جاچکی تھی اور وہ 12 سال سے قید میں تھے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں سنہ 2007 میں ہونے والے قتل کے کیس کی سماعت ہوئی۔ سماعت میں 12 سال سے قید ملزمان عبد اللہ ناصر اور طاہر عبد اللہ کو پیش کیا گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مرنے والا اور مارنے والا سب فارغ ہوجائیں گے، قصور عدالت کا نہیں گواہ کا ہوگا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ گواہی میں اتنا جھوٹ شامل تھا کہ یقین کرنا مشکل تھا، زخمی گواہ عبد المجید کے مطابق وہ آدھا گھنٹہ زمین پر پڑا رہا، اس بات پر یقین کرنا ناممکن ہے۔

انہوں نے کہا کہ عدالت میں عبد المجید نے کچھ اور بیان دیا، بتایا گیا کہ قتل کا محرک زمین تھی۔ ریکارڈ سے قتل کا محرک واضح نہیں۔

عدالت کے مطابق عبد اللہ ناصر اور طاہر عبد اللہ پر 2007 میں قتل کا الزام تھا، واقعے کے دوران گواہ عبد المجید زخمی ہوا۔ ٹرائل کورٹ نے عبد اللہ ناصر اور طاہر عبد اللہ کو سزائے موت سنای تاہم ہائیکورٹ نے سزا عمر قید میں بدل دی تھی۔

چیف جسٹس نے گواہ اور تفتیشی افسران پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ملزمان کو بری کرنے کا حکم دے دیا۔

خیال رہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ منصف اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد پرانے کیسز کے حوالے سے خاصے متحرک ہیں۔ چیف جسٹس نے جھوٹی گواہی دینے والے افراد کے خلاف بھی سزاؤں کا سلسلہ شروع کردیا ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں