The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے زیادتی کے ملزم کو 5 سال بعد بری کر دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے زیادتی کے ملزم کو 5 سال بعد بری کر دیا، چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف کھوسہ نے کہا استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آصف کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے زیادتی کیس کی سماعت کی، پولیس نے بتایا حسین احمد اور دیگر ملزمان نے2014 میں مانسہرہ میں 2 لڑکیوں سے زیادتی کی۔

سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے ملزم کو بری کر دیا، یف جسٹس سپریم کورٹ نے ریمارکس میں کہا حسین احمد صرف گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا، استغاثہ جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا۔

ٹرائل کورٹ نے ملزمان کو5 سال قید اور جرمانے کی سزا سنائی تھی اور ہائی کورٹ نےسزا کےخلاف حسین احمدکی اپیل مستردکردی تھی۔

مزید پڑھیں : چیف جسٹس نے لڑکی سے مبینہ زیادتی کے ملزم کو 8سال بعد بری کردیا

یاد رہے 4 مارچ کو چیف جسٹس آصف کھوسہ نے سیشن جج نارووال کو جھوٹےگواہ اے ایس آئی خضر حیات کے خلاف کارروائی کاحکم دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج سےسچ کا سفر شروع کر رہے ہیں، آج سے جھوٹی گواہی کاخاتمہ ہوتاہے۔

خیال رہے جنوری میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے لڑکی سےمبینہ زیادتی سےمتعلق کیس میں ملزم ندیم مسعودکو8سال بعد بری کردیا تھا اور ریمارکس دیئے تھے انصاف آج کل وہی ہےجومرضی کاہو، خلاف فیصلہ آجائےتوانصاف نہیں ہوتا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں