سپریم کورٹ نے پاناما کیس کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان کردیا Panama case date announce
The news is by your side.

Advertisement

پاناما کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پاناما کیس کا فیصلہ سنائے جانے کی تاریخ کا اعلان کردیا، یہ فیصلہ 20 اپریل کو دوپہر دو بجے سنایا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق  سپریم کورٹ نے سپلمنٹری کاز لسٹ جاری کردی جس کے مطابق پاناما کیس کا وہ فیصلہ جو عدالت محفوظ کرچکی ہے  اسے 20 اپریل کو دوپہر دو بجے سنایا جائےگا۔

خیال رہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ سننے کے لیے جہاں حکومت اور فریق سیاسی جماعتیں بے چینی سے منتظر ہیں وہیں عوام بھی اس فیصلے کو جاننے کے لیے بے چینی سے انتظار کررہی ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق نے کہا ہے کہ پوری قوم کو فیصلے کا شدت سے انتظار ہے، پاناما کیس کا فیصلہ مفروضوں پر نہیں سچ پر مبنی ہوگا۔

عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پوری قوم کو پاناما کیس کے فیصلے کا بے چینی سے انتظار ہے۔

فیصلہ 57 دن بعد سنایا جائے گا

واضح رہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ 23 فروری کو محفوظ کیا گیا تھا، یہ فیصلہ 57 دن بعد سنایا جائے گا۔

اے آر وائی نیوز کے نمائندے راشد حبیب نے بتایا کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں پانچ رکنی بینچ نے اس کیس کی سماعت کی تھی، یہ فیصلہ تحریر کیے جانے کے مرحلے میں تھا، قبل ازیں کئی بار فیصلے کی تاریخ ملتوی ہوئی تاہم اب کاز لسٹ میں حتمی طور پر اس کیس کے فیصلے کی تاریخ جاری کردی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کاز لسٹ میں اس کیس کی تاریخ شامل ہونے کا مطلب یہ ہے کہ حتمی طور پر یہ فیصلہ اب سنادیا جائے گا جس کے لیے امکان ہے کہ آج ہی فریقین کو نوٹسز جاری کردیے جائیں گے۔

سپریم کورٹ کے اطراف سخت سیکیورٹی کا فیصلہ

پولیس نے پاناما کیس کے فیصلے والے دن یعنی 20 اپریل کو سپریم کورٹ کے اطراف سیکیورٹی انتہائی سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پولیس نے کہا ہے کہ فیصلے والے دن سخت سیکیورٹی ہوگی، عمارت کے اطراف خار دار تاریں بچھائی جائیں گی، غیر متعلقہ افراد کو سپریم کورٹ جانے کی اجازت نہیں ہوگی صرف فریقین ہی عدالت جاسکیں گے۔

فریقین پاسز دکھا کر اندر داخل ہوسکیں گے،ترجمان سپریم کورٹ

ترجمان سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ انتظامیہ کو سیکیورٹی کے خصوصی انتظامات کی ہدایت کردی ہے،فیصلہ سننے کے خواہشمندوں کو پاسز جاری کیے جائیں۔

ترجمان نے کہا ہے کہ فیصلے کے فریقین کو پاسز کی ضرورت نہیں ہوگی،فریقین کورٹ کا جاری نوٹس دکھا کرعدالت آسکتے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں