The news is by your side.

Advertisement

سیفٹی افسر کے ہوٹل سیل کرنے کے اختیار سے متعلق سپریم کورٹ کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سیفٹی افسر کا ہوٹل سیل کرنے کا اختیار کالعدم قرار دے دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ فوڈ سیفٹی افسر کو کوئی ریسٹورنٹ سیل کرنے کا اختیار نہیں ہے، ریسٹورنٹ سیل ہونے پر مالک کے پاس داد رسی کا کوئی فورم نہیں بچتا۔

سپریم کورٹ نے ریسٹورنٹ سیل کرنے کے اختیار سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ ریسٹورنٹ سیل ہونے پر مالک کے پاس داد رسی کا کوئی فورم نہیں بچتا، داد رسی کا فورم نہ ہو تو فوڈ سیفٹی افسر کو ریسٹورنٹ سیل کرنے کا اختیار نہیں۔

اس کیس میں سپریم کورٹ کے جسٹس منصور علی شاہ نے 13 صفحات پر مشتمل فیصلہ تحریر کیا، جس میں کہا گیا ہے کہ فوڈ سیفٹی افسر کا ریسٹورنٹ سیل کرنا خلاف آئین ہوگا، فوڈ سیفٹی افسر صرف ہنگامی حالات میں 24 گھنٹے کے لیے ہوٹل سیل کر سکتا ہے، اور ہنگامی حالات اسی صورت ہوں گے جب انسانی جانوں کو خطرہ لاحق ہو، جب کہ ہنگامی حالات میں ہوٹل سیل کرنا بھی عدالت میں چیلنج ہو سکتا ہے۔

سپریم کورٹ کا کہنا ہے کہ فوڈ سیفٹی افسر ریسٹورنٹس کو جرمانے کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے فوڈ سیفٹی افسر کے پاس متعلقہ مہارت ہونا بھی لازمی ہے، فوڈ اتھارٹی کا اختیارات کا غلط استعمال معاشی نقصان کی وجہ بن سکتا ہے، کم سزا سے بھی معیاری کھانے کی فراہمی کا ہدف حاصل ہو سکتا ہے۔

دریں اثنا، عدالت نے نجی ریسٹورنٹ کو سیل کیے جانے کے خلاف اپیل منظور کرتے ہوئے ریسٹورنٹ سیل کرنے کے اختیار سے متعلق ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا، اور فیصلے میں واضح کیا کہ سزا حتمی ہونے تک اتھارٹی کسی کے خلاف کارروائی پبلک نہیں کر سکتی، کارروائی کی معلومات دینے والے افسر کے خلاف کارروائی کی جا سکتی ہے۔

واضح رہے کہ پنجاب فوڈ اتھارٹی نے ایک نجی ریسٹورنٹ کو سیل کر کے بعد ازاں نوٹس جاری کر دیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں