اسلام آباد (03 جنوری 2026): لاہور کے علاقے موہلنوال میں واقع 53 کنال 3 مرلہ اراضی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے کہا کہ جرح کے نام پر گواہ کو ہراساں اور غیر متعلقہ سوالات کرنا ناقابل قبول ہے۔
سپریم کورٹ کے جسٹس شاہد بلال حسن نے تحریری فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا کہ جرح کا حق نہ تو لامحدود ہے اور نہ ہی بے لگام ہے، ٹرائل کورٹ کو غیر ضروری جرح محدود یا ختم کرنے کا مکمل قانونی اختیار حاصل ہے۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے قانون کے مطابق قرار دے دیے، اور فیصلے میں کہا عدالتیں گواہوں کو غیر ضروری تضحیک اور دباؤ سے محفوظ رکھنے کی پابند ہیں، ٹرائل کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ مزید جرح غیر ضروری اور ہراساں کرنے کے مترادف ہے، تو ٹرائل کورٹ نے مدعا علیہ کا مزید جرح کا حق ختم کر دیا، اور لاہور ہائیکورٹ نے اس فیصلے کے خلاف اپیل مسترد کر دی۔
پسند کی شادی کرنے والی لڑکی کی درخواست پر وفاقی آئینی عدالت کا بڑا فیصلہ
سپریم کورٹ نے کہا کہ گواہوں کو طویل جرح کے ذریعے تھکا کر غلطی پر مجبور کرنا انصاف کے منافی ہے، عدالتی ریکارڈ کی درستگی کا قوی قانونی مفروضہ موجود ہوتا ہے۔
عدالتی دستاویز کے مطابق مذکورہ کیس میں مدعی بطور گواہ پیش ہوا اور اس سے 2 ماہ میں 7 سماعتوں پر 30 صفحات پر مشتمل جرح کی گئی۔ سپریم کورٹ نے لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے حوالے سے کہا کہ اس کو سیکشن 151 سی پی سی کے تحت کارروائی کا مکمل اختیار حاصل ہے۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


