The news is by your side.

Advertisement

ای سی ایل میں شامل افراد کا بیرون ملک جانا وزارت داخلہ اور متعلقہ عدالت کی اجازت سے مشروط

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں شامل افراد کے بیرون ملک جانے کو وزارت داخلہ اور متعلقہ عدالت کی اجازت سے مشروط کردیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں تحقیقات میں حکومتی مداخلت پر ازخودنوٹس کی سماعت ہوئی، دوران سماعت جسٹس اعجاز الاحسن نے استفسار کیا کیاای سی ایل رولزکےحوالےسےکابینہ نےمنظوری دی؟ جس پر اٹارنی جنرل نے بتایا کہ کابینہ کمیٹی برائےقانون سازی میں معاملہ زیرغور ہے۔

چیف جسٹس عطا بندیال کا کہنا تھا کہ جس نے سرکاری کام سے باہر جانا ہے اسےاجازت ہونی چاہیے، جو ملزم بھی بیرون ملک جانا چاہیے وزارت داخلہ سےاجازت لینا ہوگی۔

جسٹس عطا بندیال نے ریمارکس دیئے کہ ملک میں موجودہ حالات اپنی نوعیت کےمختلف ہیں، حکومت بنانےوالی اکثریتی جماعت اسمبلی سےجاچکی ہے، ملک اس وقت معاشی بحران سے گزررہا ہے، سسٹم چلنے دینے کیلئے سب کومل کر کام کرنا ہوگا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ یکطرفہ پارلیمان سے قانون سازی بھی قانونی تقاضوں کےمطابق ہونی چاہیے، یہ کسی کیلئے فائدہ اٹھانے کا موقع نہیں ہے، نظر رکھیں گے کوئی ادارہ اپنی حد سے تجاوز نہ کرے، ایسا حکم نہیں دینا چاہتے جس سے حکومت کو مشکلات ہوں۔

جسٹس منیب اختر کا ریمارکس میں کہنا تھا کہ سمجھ نہیں آ رہی حکومت کرنا کیا چاہتی ہے،لگتا ہے حکومت بہت کمزور وکٹ پر کھڑی ہے، واضح بات کے بجائے ہمیشہ ادھر ادھر کی سنائی جاتی ہیں۔

سپریم کورٹ نے ای سی ایل میں شامل افراد کیلئے بیرون ملک آنا جانا وزارت داخلہ اور متعلقہ عدالت کی اجازت سے مشروط کردیا۔

چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ حکومت معاشی بحران سے نکلنے کی کوشش کر رہی ہے ، ہم سب کو ساتھ مل کر چلنا ہے تاکہ ملک معاشی بحران سے نکل سکے۔

جسٹس عطا بندیال کا مزید کہنا تھا کہ ازخودنوٹس لینے کا مقصد نظام میں توازن برقرار رکھنا ہی ہے ،جو عدالتوں سے ضمانت لے گئے انہوں نے قانون کا احترام کیا ، ہم دیکھیں گے کیا پراسیکیوشن نے ضمانتوں کیخلاف اپیل دائر کی یا نہیں۔

پریم کورٹ نےای سی ایل میں شامل افراد کے بیرون ملک جانے کو وزارت داخلہ اور متعلقہ عدالت کی اجازت سے مشروط کردیا۔

دوران سماعت ایف آئی اے نے 42 ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ سپریم کورٹ میں جمع کرا دیا ، ڈی جی ایف آئی اے نے سیل لفافے میں ریکارڈ جمع کرایا۔

جسٹس اعجاز الااحسن نے استفسار کیا کہ کیا اس میں ہائی پروفائل کیسز کا تمام ریکارڈ ہے، جس پر ڈی جی ایف آئی اے نے بتایا کہ سارا ریکارڈ پی ڈی ایف فائلز کی صورت یو ایس بی میں شامل کیا ہے۔

نیب نے ہائی پروفائل کیسز کا ڈیجیٹل ریکارڈ جمع کرانے کے لیے 2 ہفتے کا وقت مانگ لیا ، جس پر سپریم کورٹ نے نیب کو مہلت دیتے ہوئے سماعت 27 جون تک ملتوی کردی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں