The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا رائل پام کلب پاکستان ریلوے کے حوالے کرنے کا حکم

لاہور: سپریم کورٹ نے لاہور میں واقع رائل پام کلب پاکستان ریلوے کے حوالے کرتے ہوئے رائل پام انتظامیہ کا ریلوے کے ساتھ معاہدہ کالعدم قرار دے دیا جبکہ رائل پام کے لیے تین ماہ میں نیا ٹینڈر جاری کرنے کا حکم دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ کے جسٹس عظمت سعید شیخ اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل دو رکنی بنچ نے رائل پام سے متعلق کیس کی سماعت کی ، مقدمے میں ریلوےکی جانب سے ابوذر سلمان نیازی اورسلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ پیش ہوئے جبکہ رائل پام کی طرف سے اعتزازاحسن ، علی ظفر اور مخدوم علی خان نے پیروی کی۔

جسٹس عظمت سعید اورجسٹس اعجاز الاحسن نےسپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں مقدمے کا فیصلہ سنایا ، فیصلے میں حکم دیا کہ رائل پام کنٹری کلب کے تمام معاملات ریلوے انتظامیہ کے ذمہ ہوں گے اور پاکستان ریلوے رائل پام کے تمام انتظامات کو بہترین طریقے سے چلائے گی۔

عدالت نے حکم دیا کہ تین ماہ میں رائل پام کے انتظامات کے لیے قواعد و ضوابط طے کیے جائیں ۔

عدالت نے قرار دیا کہ شیخ رشید نے بیان دیا کہ کئی غیر ملکی کمپنیاں رائل پام کا ٹھیکہ مہنگے داموں لینے میں دلچسپی لے رہی ہیں لہذا اس حوالے سے تین ماہ میں نیا ٹینڈر جاری کیا جائے اور اس میں غیر ملکی کمپنیوں کو قانون کے مطابق شامل کیا جائے ۔

عدالت نے ٹینڈر کی نگرانی کے لیے جسٹس فیصل عرب اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل عمل درآمد بنچ بھی تشکیل دے دیا جبکہ حکم دیا کہ اس دوران رائل پام میں ہونے والی تقریبات کو متاثر نہ کیا جائے ۔

سپریم کورٹ نے ہدایت کی کہ احتساب عدالت اس معاملے پر قانون کے مطابق اپنی کارروائی جاری رکھے ۔

خیال رہے 27 دسمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے رائل پام انتظامیہ تحلیل کر دی تھی اور 11 اپریل کو معاہدہ غیر قانونی قرار دے کر فیصلہ محفوظ کر لیا تھا۔

رائل پام سے متعلق نیب انکوائری نیب راولپنڈی میں زیر تفتیش ہے ، نیب کے مطابق 2001 میں تجارتی مقاصد کے لیے ریلوے گالف کلب کی 49 سالہ لیز اور  140 ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر دے جس کی وجہ سے قومی خزانے کو2 ارب 20 کروڑ روپے کا نقصان پہنچا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں