The news is by your side.

Advertisement

شوگرکمیشن کی رپورٹ کالعدم قرار دینےکے فیصلے کیخلاف حکومتی اپیل سماعت کیلئے مقرر

اسلام آباد : سپریم کورٹ میں شوگرکمیشن کی رپورٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل پر سماعت 2ستمبر کو ہوگی، سند ھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت کی اپیل سماعت کے لیے مقرر کر دی۔

چیف جسٹس نے وفاقی حکومت کی اپیل پر تین رکنی بینچ تشکیل دے دیا، چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس مشیر عالم اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل 3رکنی بینچ 2 ستمبر کو سماعت کرے گا.

سندھ ہائی کورٹ نے شوگر کمیشن کی رپورٹ کو کالعدم قرار دیا تھا۔ وفاقی حکومت نے سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔

اپیل میں کہا گیا تھا کہ سندھ ہائیکورٹ نے شوگرکمیشن کی رپورٹ تکنیکی نکات پرکالعدم قراردی، سندھ ہائی کورٹ کے فیصلے سے شوگرمافیا کو فائدہ پہنچا اور عوام شدید متاثر ہوئے ہیں۔

مزید پڑھیں : وفاقی حکومت کی شوگر انکوائری کمیشن رپورٹ کالعدم قرار دینے کے فیصلے کیخلاف اپیل دائر

حکومت نے جانب سے اپیل میں کہا تھا کہ شوگرمافیا انتہائی مہنگے داموں چینی فروخت کرکےدونوں ہاتھوں سےلوٹ رہی ہے، سندھ ہائیکورٹ کافیصلہ کالعدم قراردے کر شوگرکمیشن رپورٹ بحال کی جائے تاکہ شوگرکمیشن رپورٹ کی روشنی میں تحقیقات ہوسکیں۔

یاد رہے 17 اگست کو سندھ ہائی کورٹ نے شوگر انکوائری کمیشن اور رپورٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے نئی آزادانہ تحقیقات کا حکم دیا تھا۔

ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ نیب اور ایف بی آرگزشتہ کمیشن رپورٹ سے ہٹ کر غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور کمیشن میں شوگر انڈسٹری سے متعلق معلومات رکھنے والوں کو بھی شامل کیا جائے۔

عدالت نے حکم نامے میں کہا تھا کہ ایف بی آر ٹیکس قوانین کے مطابق تحقیقات کرے جب کہ ایف آئی اے بھی اس حوالے سے از سر نو تحقیقات کرے۔

خیال رہے شوگر انکوائری کمیشن کی حتمی رپورٹ میں جہانگیر ترین، مونس الٰہی، شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ، اومنی گروپ سمیت دیگر کو چینی بحران کا ذمے دار قراردیا گیا تھا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں