The news is by your side.

Advertisement

سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس ، چیف جسٹس کا نئی جے آئی ٹی بنانے کیلئے 5 رکنی لارجربنچ تشکیل کاحکم

لاہور : چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے   5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا، لارجربنچ 5 دسمبرسے اسلام آباد میں کیس کی سماعت کرے گا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ لاہوررجسٹری چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے سے متعلق درخواست پر سماعت کی۔

شہباز شریف نے لکھ کردیاکہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس میں پیش نہیں ہوناچاہتے

ڈی جی نیب

ڈاکٹر طاہرالقادری عدالت میں پیش ہوئے جبکہ شہباز شریف پیش نہ ہوئے ، ڈی جی نیب کا کہنا تھا کہ شہبازشریف نےلکھ کردیاکہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس  پیش نہیں ہوناچاہتے، انھوں نے اپنے وکیل کوپیش کرنے کا کہا ہے۔

ڈاکٹرطاہرالقادری نے مقدمے میں خود دلائل دیتے ہوئے کہا سابق آئی جی مشتاق سکھیرا پر فرد جرم عائد ہونے کے بعد کیس زیرو پرآ گیا۔ کیس کی دوبارہ تفتیش کیلئے نئی جے آئی ٹی بنائی جائے۔

نوازشریف،شہبازشریف،حمزہ شہباز،راناثنا کے وکیل نے مہلت کی استدعا کی اور کہا قانونی نکات پرتیاری کے لیے مہلت دی جائے، جس پر عدالت نے دو ہفتے کی مہلت دے دی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی تحقیقات کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کے لیے   5رکنی لارجر بنچ تشکیل دینے کا حکم دے دیا، لارجربنچ 5 دسمبرسے اسلام آباد میں کیس کی سماعت کرے گا، بینچ کی سربراہی چیف جسٹس خود کریں گے جبکہ جسٹس آصف سعید کھوسہ بھی بینچ میں شامل ہیں۔

یاد رہے 17 نومبر کو سانحہ ماڈل ٹاون کے لیے نئی جے آئی ٹی بنانے کی درخواست کو سماعت کے لئے مقرر کیا تھا اور عدالت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن استغاثہ کیس میں نامز ملزم نوازشریف، شہبازشریف ، حمزہ شہباز، راناثناءاللہ، دانیال عزیز، پرویز رشید اور خواجہ آصف سمیت دیگر 139 ملزمان کو نوٹس جاری کئے تھے۔

خیال رہے چیف جسٹس نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ماڈل ٹاؤن میں شہید کی گئی تنزیلہ امجد کی بیٹی بسمہ امجد کی درخواست پر 6 اکتوبر کو ازخود نوٹس لیا تھا، متاثرہ بچی نے مؤقف اختیار کیا تھا سانحہ ماڈل ٹاؤن پر بننے والی پہلی جے آئی ٹی نے میرٹ ہر تفتیش نہیں کی اور ذمہ دار سیاستدانوں کو تفتیش کے لیے بلائے بغیر بے گناہ قرار دے دیا گیا لہذا عدالت دوبارہ جے آئی ٹی بنا کر تفتیش کروانے کا حکم دے۔

واضح رہے یاد رہے کہ جون 2014 میں لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں جامع منہاج القرآن کے دفاتر اور پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی رہائش گاہ کے باہر بیرئیر ہٹانے کے لیے خونی آپریشن کیا گیا، جس میں خواتین سمیت 14 افراد جاں بحق جب کہ 90 افراد زخمی ہو گئے تھے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں