site
stats
پاکستان

سندھ ہائیکورٹ نے نیب کیسز کی سماعت روک دی

کراچی: سندھ ہائی کورٹ نے سندھ میں نیب کے قانون کے منسوخ ہونے کے باعث پیدا شدہ صورت حال کے باعث نیب سے متعلق کیسز کی سماعت کو روک دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق سندھ ہائیکورٹ میں ڈاکٹر عاصم کے شریک ملزم اطہر حسین کی ضمانت کی درخواست کی سماعت 19 جولائی تک ملتوی کردی گئی۔

جسٹس فاروق شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سندھ حکومت نے نیب کو صوبے سے ختم کردیا ہے۔ نیب قوانین منسوخی کے بل کا مستقبل واضح ہونے کی بعد یہ درخواستیں سنی جائیں گی۔

ہائیکورٹ میں کے ایم سی ملازمین کی درخواستوں کی سماعت بھی ملتوی کردی گئی۔ جج کا کہنا تھا کہ یہ بہت عظیم لوگ ہیں جنہوں نے کے ایم سی کے ملازمین کی تنخواہیں ہڑپ کیں۔ نیب کا قانون ختم ہونے پر ایسے بہت سے لوگوں کو فائدہ ہوگا۔

یاد رہے کہ 2 روز قبل سندھ اسمبلی میں نیب آرڈیننس منسوخی کا بل اپوزیشن کے شدید احتجاج کے باوجود منظور کرلیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: سندھ اسمبلی میں نیب آرڈیننس منسوخی کا بل منظور

بل کی منظوری کے موقع پر صوبائی وزیر قانون ضیا لنجار کا کہنا تھا کہ ہم نیب آرڈیننس کو وفاق کی طرف سے سندھ کے معاملات میں مداخلت سمجھتے ہیں۔ نیب عزت دار افراد کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دنیا بھر میں ایسا کوئی قانون نہیں جہاں مقدمہ، سزا اور ضمانت ایک ہی ادارہ کرے۔

واضح رہے کہ نیب آرڈیننس منسوخی بل کی منظوری سے نیب کا سندھ میں صوبائی حکومت کے ماتحت اداروں اور افسران کے خلاف کارروائی کا اختیار ختم ہوجائے گا اور نیب سندھ صرف وفاقی اداروں میں کرپشن کے خلاف کارروائی کر سکے گا۔

بل کے منظوری کے بعد نیب سندھ حکومت یا اس کے ذیلی اداروں میں کرپشن سے متعلق کسی معاملے میں تحقیقات نہیں کر سکتی بلکہ یہ کام صوبائی محکمہ اینٹی کرپشن کرے گا۔

محکمہ قانون سندھ کی جانب سے تیار کیے گئے مجوزہ بل کے مسودے کے مطابق اس کا اطلاق پورے سندھ پر فوری طور پر کردیا گیا ہے۔


Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top