Asma rape-murder caseسپریم کورٹ نے مردان اسما قتل ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے مردان اسما قتل ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے مردان کی 4 سالہ اسماء کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹاتے ہوئے 10روز میں ملزم کاچالان جمع کرانے کاحکم دیدیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے اسما قتل ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی، سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کے پی کے کے ڈپٹی ایڈووکیٹ جنرل سے استفسار کیا کہ کیاملزم گرفتار ہواہے،چالان کب تک فائل کررہے ہیں؟

ڈپٹی ایڈوکیٹ جنرل کے پی کے نے آگاہ کیا ہے کہ ملزم کانام غلام نبی ہے، اس کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ملزم جوڈیشل حراست میں ہے۔

جس کے بعد سپریم کورٹ نے 10روز میں ملزم کاچالان جمع کرانے کاحکم دیا اور اسما کے قتل سے متعلق ازخود نوٹس کیس نمٹا دیا۔

یاد رہے کہ جنوری کی 13 تاریخ کو مردان کے نواحی علاقے گوجر گڑھی سے چار سال کی اسما گھر کے سامنےسے کھیلتے ہوئے لاپتہ ہوگئی تھی۔ اسما کو اغواکے بعد زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور بعد ازاں قتل کرکے لاش کھیتوں میں پھینک دی گئی تھی۔


مزید پڑھیں : مردان میں 4 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل


میڈیکل رپورٹ میں بچی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہوئی ہے، جبکہ جسم پر تشدد کے نشانات بھی تھے، بچی کی موت گلادبانے سے ہوئی تھی۔

چند روز قبل ہی پولیس نےاسما قتل کیس کےمرکزی ملزم کو میڈیا کےسامنے پیش کیا تھا۔

آر پی او کا کہنا تھا کہ مردان کیس میں گرفتار15سال کےملزم کانام محمدنبی ہے، مردان کیس میں گرفتارملزم محمد نبی نے اعتراف جرم کرلیا، مرکزی ملزم نبی مقتول اسما کا کزن تھا، ملزم محمد نبی ریسٹورنٹ میں کام کرتا تھا،شادی کی تقریب میں آیا تھا، ملزم بچی کو کھیت میں لے گیا،بچی نے چیخ ماری تو گلا دبانے کی کوشش کی، ملزم کے دوست کو بھی گرفتارکرلیا ہے۔

اسما قتل کیس کے ملزم کا اعترافی بیان سامنے آیا تھا، ملزم کا کہنا تھا کہ اسما بچوں کیساتھ کھیل رہی تھی اس روزگاؤں میں شادی تھی،ہوٹل میں مزدوری کرتاتھا،شادی کیلئےچھٹی کی تھی، دیگر بچے شادی والے گھر چلے گئے تواسما اکیلی رہ گئی اور میں نے اسما کو کھیتوں میں لے جا کر زیادتی کی اور اسے گلا دبا کر قتل کردیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں