مشعال قتل ازخود نوٹس کیس، 36ملزمان کو گرفتار کیا، ،پولیس رپورٹ -
The news is by your side.

Advertisement

مشعال قتل ازخود نوٹس کیس، 36ملزمان کو گرفتار کیا، ،پولیس رپورٹ

اسلام آباد:  سپریم کورٹ میں طالبعلم مشعال خان کے قتل کی ازخود نوٹس کیس میں  پولیس کا اپنی رپورٹ میں کہنا ہے کہ مشال خان قتل کیس میں اب تک چھتیس ملزمان کوگرفتار کرلیا گیا، لیکن گولی چلانے والا گرفتار نہ ہوسکا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں مردان کی عبدالولی خان یونیورسٹی میں طلباءکے تشدد سے جاں بحق ہونے والے طالبعلم مشعال خان کے قتل کی ازخود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی ،  مقدمے کی سماعت چیف جسٹس کی سر براہی میں تین رکنی بنچ نے کی، دوران سماعت کے پی کے پولیس کی طرف سے رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرائی ۔

پولیس کا رپورٹ میں کہنا ہے کہ مردان یونیورسٹی میں طالبعلم مشعال خان کے قتل میں مجموعی طور پر چھتیس ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا ہے، ان میں نو یونیورسٹی کے ملازمین بھی شامل ہیں جبکہ تفتیش میں معاونت کے لئے تین رکنی ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔

، سرکاری وکیل نے بتایا کہ جےآئی ٹی کی ازسرنوتشکیل کر دی گئی ، آئی ایس آئی ،ایم آئی اورایف آئی اےکو شامل کیا گیا ہے ، چھ ملزمان کے اقبالی بیانات مجسٹریٹ کے سامنے قلمبند کیےگئے اور گولی مارنے والے ملزم کی شناخت ہوگئی تاہم ملزم تا حال گرفتار نہیں ہو سکا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ تحقیقات ہمارا کام نہیں، معاملے میں مداخلت نہیں چاہتے لیکن وقت ضائع نہ کیا جائے۔


مزید پڑھیں : مشعال خان قتل از خود نوٹس کیس، سپریم کورٹ نے پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا


عدالت نےمقدمے کی سماعت پندرہ دن کے لئے ملتوی کردی۔

گذشتہ سماعت میں سپریم کورٹ نے مشعال خان قتل از خودنوٹس کیس میں پشاور ہائیکورٹ کو جوڈیشل کمیشن بنانے سے روک دیا  تھا جبکہ آئی جی خیبر پختونخوا نے مکمل رپورٹ مرتب کر نے کیلئے مزید مہلت مانگی تھی۔

واضح  رہے کہ مردان کی عبدالولی یونیورسٹی میں مشتعل طالب علموں نے مشعال  خان پر توہین رسالت کا الزام لگا کر بہیمان تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں وہ جاں بحق ہوگیا تھا۔

 

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں