The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا میئر کے اختیارات اور کراچی کی صورتحال پر وزیراعلیٰ سندھ سے جواب طلب

وزیراعلی سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی تنبیہ

کراچی: سپریم کورٹ نے مئیر کراچی کے اختیارات اور کراچی کی صورتحال پر وزیراعلی سندھ سے جواب طلب کر لیا، جسٹس گلزار نے مئیر کراچی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مئیر مرضی سے بنے، کام کیا تو کسی پر احسان نہیں کیا، آپ لوگوں کی ضد اور انا میں شہری مارے جا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ رجسٹری میں کراچی میں تجاوزات کےخلاف آپریشن سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی ، سندھ حکومت کی جانب سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعلی سندھ کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرنے کی تنبیہ کردی۔

عدالت نے استفسار کیا وزیراعلی سندھ سے ساڑھے 11بجے تک پوچھ کربتائیں کچھ کررہےہیں یا نہیں؟ عدالت مطمئن نہ ہوئی تو آج توہین عدالت کے نوٹس جاری کر دیں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا سندھ حکومت اور شہری حکومت مکمل ناکام ہو چکی ہیں ، وفاق نے مداخلت کی تواس کا مطلب سمجھ رہے ہیں آپ لوگ؟ آپ کو اس کی سنجیدگی کا علم نہیں؟

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ بارشوں سےکراچی ڈوب گیا، کچھ لوگ کیفے پیالہ پربیٹھے تھے، میئر صاحب نےتو بارش سے بچنے کے لیے کوٹ بھی پہن رکھا تھا، بارش سے اتنے لوگ مرگئے مگر انہیں کوئی فکر نہیں پڑا، جس پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا کیفے پیالہ پرمیئر اور گورنر گئے تھے۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا سندھ حکومت سےتو اتنا بھی نہیں ہوا، بنگلے میں بیٹھ کر ہدایات دے رہے تھے، سندھ حکومت فیل، شہری حکومت فیل، دونوں بلاک ہوگئیں، سنا ہےچند دنوں بعد پھر بارشیں ہیں، کیا ہوگا شہر کا ؟ معذرت کےساتھ عدالتی حکم پر کوئی عمل نہیں کر رہا۔

جسٹس گلزار کا مزید کہنا تھا کہ وزیراعلی سندھ کوتوہین عدالت کے نوٹس کے سوائے کوئی چارہ نہیں، اس شہر میں اگلے ہفتے پورا ہفتہ بارش کی پیش گوئی ہے، کوئی ادارہ اپنا کام کرنے تو تیار نہیں۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے استدعا کی کچھ وقت دیا جائے، جس پر جسٹس گلزار احمد نے کہا کتنی مہلت دیں، 2تین سال سےکیس سن رہے ہیں، مزید مہلت نہیں دیں گے، آج ہی کچھ کریں گے۔

مئیر کراچی کے اختیارات اور شہر کی ابتر صورتحال کا کیس میں ایڈووکیٹ جنرل سلمان طالب الدین نے بتایا وزیراعلیٰ سندھ، وزیراعظم سے ملاقات کیلئےاسلام آبادمیں مصروف ہیں، یقین دلاتاہوں، عدالتی حکم پر بہر صورت عمل کیاجائے گا۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ مئیر کہتے ہیں آپ نے اجلاس میں انہیں نہیں بلایا، شہرکےبارےمیں اجلاس میں مئیرنہیں ہوگا تو کیا فائدہ، سمجھ نہیں آرہا،مئیر صاحب کیسےکہہ رہےہیں کہ ان کے پاس پیسہ نہیں۔

سلمان طالب الدین نے کہا چھوٹی چھوٹی کاوشیں کی ہیں اجازت دیں توبتا دیتاہوں، جس پر جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ ابھی چلےجائیں لالو کھیت،نارتھ ناظم آباد، منگھوپیر، کٹی پہاڑی ، ہر جگہ بڑے بڑے مافیاز کام کر رہےہیں، آپ لوگوں کی ضداورانامیں شہری مارے جا رہے ہیں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا سڑکوں پر بچے مر رہے ہیں کسی کو پروا نہیں، ماں باپ بچوں کواسکول بھی ڈر اور خوف سے بھیجتے ہیں، میری نواسی اسکول جاتی ہےتو اہلیہ پریشان رہتی ہے۔

کراچی میں تجاوزات سےمتعلق سماعت میں جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس میں کہا آپ لوگوں نے بچوں سے سب چھین لیا، پتہ نہیں چڑیا گھر میں جانور بھی ہیں یا نہیں؟ جانوروں کےکھانے کے پیسے بھی افسران کھا جاتے ہوں گے۔

جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کیا چڑیا گھر میں گھاس لگی ہے، کے ایم سی افسران نے جواب میں بتایا چڑیا گھر میں گھاس لگائی جا رہی ہے تو جسٹس گلزار احمد نے کہا چڑیا گھر میں گھاس تو بنیادی چیز ہے، چند ٹکوں کی خاطر پورا شہر بیچ ڈالا، بچوں سے ان کی سرگرمیوں کی جگہ چھین لی گئیں، شہری اور صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری تھی۔

اےجی سندھ نے بتایا وزیراعلی سندھ خود اجلاسوں کی سربراہی کر رہے ہیں، جس پر جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ مت سمجھیں کہ لوگ بیوقوف ہیں، سب سمجھ رہے ہیں ،کس کے فائدےکے لیےکیا ہو رہا ہے، ہم اب بھی ابتر صورتحال میں کھڑے ہیں۔

عدالت نے میئر کے اختیارات، کراچی کی صورتحال پر وزیراعلیٰ سندھ سے جواب طلب کرلیا ، سماعت کے دوران میئرکراچی وسیم اختر اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ کے درمیان تکرار ہوئی ۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے کہا میئرکراچی کےپاس پیسہ اوراختیارات سب ہیں ، جس پر میئر کراچی نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ پر اعتراض کرتے ہوئے کہا سرکاری ملازم ہیں یاسیاستدان، تو سلمان طالب الدین نے جواب دیا میئرکراچی میری ذاتیات پربات کررہےہیں۔

جسٹس گلزاراحمد کا کہنا تھا کہ میئرصاحب، آپ کوعزت دیتےہیں ایسی باتیں مت کریں، میئرمرضی سےبنے،کام کیاتوکسی پراحسان نہیں کیا، تقریرنہیں سنیں گے۔

عدالت نےوسیم اخترکوبات کرنےسےروک دیا اور کہا 9اگست تک بتائیں کراچی کےمسائل کیسےحل ہوں گے، وزیرعلیٰ سندھ جامع اور تفصیلی جواب جمع کرائیں۔

دوسری جانب عدالت نے درختوں کی کٹائی کے معاملہ پر ریمارکس دیے کہ صرف امریکی قونصل خانے کی وجہ سے کلفٹن روڈ پر سارے درخت کاٹ دیئے۔ دو دو سو سال پرانے درخت بھی کاٹ دیئے گئے کوئی پوچھنے والا نہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں