The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کردیں

اسلام آباد : اسپریم کورٹ نے اصغرخان کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کردیں اور کیس پرعملدرآمدکاجائزہ لینے کیلئے سماعت کل تک ملتوی کردی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں اصغرخان کیس کےفیصلےپر نظرثانی درخواستوں پر سماعت ہوئی تو چیف جسٹس نے پوچھا جنرل ریٹائرڈ اسلم بیگ کہاں ہیں، وہ تشریف لائے ہیں’ جس پر عدالت کو بتایا گیا کہ وہ موجود ہیں۔

سابق آرمی چیف مرزااسلم بیگ عدالت میں پیش ہوئے۔

چیف جسٹس نے سابق آرمی چیف مرزااسلم بیگ کو روسٹرم پر بلالیا اور کہا کہ جنرل صاحب اگر آپ کے وکیل نہیں ہیں تو دلائل خود شروع کردیں، جس پر سابق آرمی چیف مرزااسلم بیگ کا نے کہا کہ مجھےصرف ایک روزقبل اطلاع ملی، کیس کی تیاری نہیں کرسکا۔

جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جنرل صاحب کسی صورت کیس کی سماعت ملتوی نہیں کی جائےگی، نظرثانی کی 2 درخواستیں آئی ہیں، ہم اس کیس میں التوانہیں دیں گے۔

اسددرانی کے وکیل نے استدعا کی کہ مناسب ہو گااس کیس کوڈھائی بجےسن لیں۔

چیف جسٹس نے وکیل سلمان اکرم راجا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بھی اسی کیس میں آئے ہیں جس پر انہوں نے کہا کہ جی، میں اصغر خان کی جانب سے پیش ہوتا رہا ہوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے اصغر خان کے وکیل سلمان اکرم راجہ کو کیس کاخلاصہ پیش کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت کو ڈھائی بجے کے لئے مقرر کردیا۔

سماعت شروع ہوئی تو وکیل اصغرخان نے دلائل میں کہا کہ اسلم بیگ نے140ملین روپےسیاستدانوں کےنام پرلیے، اسلم بیگ نے خاصی رقم اپنی این جی او کو دی، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ حکومت کی جانب سےاب تک کیا اقدامات کیے گئے؟ جس پر وکیل اصغر خان نے بتایا کہ کوئی اقدامات نہیں کیےگئے۔

چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ اٹارنی جنرل کوبلائیں، 6 سال ہوچکے اقدامات کیوں نہیں کیےگئے؟ کیس پر عملدرآمدکیوں نہیں ہوا ذمہ داروں کا بتایا جائے، اٹارنی جنرل رات10بجے تک بتائیں ذمہ دار کون ہیں۔

اصغرخان کیس کے فیصلے پر نظرثانی اپیلوں کی سماعت میں چیف جسٹس ثاقب نثار نے ڈی جی ایف آئی اے کو فوری طلب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی افسرغیرقانونی حکم تسلیم کرنے کا پابندنہیں، جسٹس اعجازالاحسن کا کہنا تھا کہ سینئرز کے حکم کی فوری تعمیل حالت جنگ کیلئے ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاآپ چاہتےہیں آپ کووعدہ معاف گواہ بنایا جائے، سیاستدانوں میں رقم تقسیم کرنے والابہت کچھ جانتا تھا، وہ شخص جانتا تھا یہ غیرقانونی مقاصد کیلئے استعمال ہوگی۔

سپریم کورٹ نے اصغرخان کیس میں نظرثانی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے کیس پرعملدرآمد کا جائزہ لینے کیلئے سماعت کل تک ملتوی کردی اور ساتھ ہی اٹارنی جنرل اورڈی جی ایف آئی اے کو نوٹس جاری کردیئے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ سینئر کےغیرقانونی اقدام کو ماننے کے بارے میں کیا لکھا ہے؟ سینئر کہے کسی کو بغیر ٹرائل قتل کر دو تو کیا کردیں گے؟ سپریم کورٹ فیصلے میں کہہ چکی ہے کوئی غیرقانونی اقدام نہیں کرسکتا۔

جسٹس عمرعطابندیال نے کہا کہ فوج اور اس کی چین کمانڈ کی توہین نہ کریں، وکیل اسددرانی کا کہنا تھا کہ رقم دینا ثابت ہے تو پھرلینا کیوں تحقیق طلب ہے؟ جس پر چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ اس لیے کیونکہ رقم دیناتسلیم شدہ حقیقت ہے۔

یاد رہے کہ دو روز قبل سپریم کورٹ میں اصغر خان کیس سماعت کیلئے مقرر کیا تھا، سابق آرمی چیف اسلم بیگ اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی اسد درانی نے درخواستیں دائر کر رکھی ہیں۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک’پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں