سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخودنوٹس کیس کا فیصلہ جاری کردیا
The news is by your side.

Advertisement

فیض آباد دھرنےمیں املاک کونقصان پہنچانے والوں کوسزاملنی چاہیے،سپریم کورٹ کا فیصلہ

کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کےخلاف کام نہیں کرسکتی،سپریم کورٹ کافیصلہ

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا کیس کا فیصلہ جاری کردیا، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کےخلاف کام نہیں کرسکتی اور نہ کسی جنگجوگروپ سےملتاجلتانام رکھ سکتی ہے،جنھوں نےاحتجاج میں راستہ روکا، املاک کونقصان پہنچایاانھیں سزاملنی چاہیے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے فیض آباد دھرنا ازخودنوٹس کیس کا تحریری فیصلہ ویب سائٹ جاری کردیا، ویب سائٹ پرجاری فیصلہ 45 صفحات پرمشتمل ہے، فیصلہ جسٹس قاضی فائزعیسیٰ  نے تحریرکیاگیاہے۔

دورانِ سماعت جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ ازخود نوٹس کیس کافیصلہ سنانا مشکل کام ہے، فیصلے میں کہا گیا کہ سیاسی جماعت بنانا ہر پاکستانی کابنیادی حق ہے لیکن کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کے خلاف کام نہیں کرسکتی۔

کوئی سیاسی جماعت ملکی سالمیت کےخلاف کام نہیں کرسکتی اور نہ  کسی جنگجوگروپ سےملتاجلتانام رکھ سکتی ہے،فیصلہ

فیصلےمیں کہا گیا کہ ہرسیاسی جماعت کے فنڈز کے ذرائع معلوم ہونا ضروری ہیں۔ الیکشن کمیشن نے تصدیق کی ہے کہ ٹی ایل پی نے سورس آف فنڈز نہیں بتائے۔

تحریری  فیصلے کے مطابق کہ تحریکِ لبیک پاکستان بطور سیاسی جماعت رجسٹرڈہوئی، الیکشن ایکٹ کے تحت سیاسی پارٹی کو آئین کے منافی پروپیگنڈا کرنا منع ہے، سیاسی جماعتیں دہشت گردی میں بھی ملوث نہیں ہوسکتی ہیں، اور فرقہ ورانہ، مذہبی اورصوبائی منافرت بھی نہیں پھیلاسکتیں جبکہ سیاسی جماعت کسی جنگجو گروپ سےملتا جلتا نام بھی نہیں رکھ سکتیں۔

سیاسی جماعتیں بیرون ملک سےفنڈزنہیں لےسکتیں،فنڈزکےذرائع بھی معلوم ہونا ضروری ہیں،سپریم کورٹ کا فیصلہ

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ سیاسی جماعتیں ارکان کو ملٹری اور پیراملٹری تربیت نہیں دے سکتیں اور نہ ہی بیرون ملک سے فنڈز لے سکتیں ہیں، کوئی سیاسی جماعت یہ سب کرتی ہے تو حکومت اس کو کالعدم کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔

حکم نامے میں آفس کوہدایت کی ہے کہ فیصلے کی کاپی حکومت، سیکریٹری دفاع ، سیکریٹری داخلہ، سیکریٹری انسانی حقوق و مذہبی اموراور پیمرا کو بھجوائی جائے جبکہ فیصلے کی کاپی آرمی چیف، آئی ایس آئی چیف، ڈی جی آئی ایس پی آر، ایم آئی سربراہ اور آئی بی سربراہ کو بھجوانے کی بھی ہدایت کی گئی ہے۔

فیصلہ میں کہا گیا سانحہ12مئی بری مثال ہے، جس سے سیاسی جماعتوں کوتشددکی راہ ملی، جن لوگوں نے احتجاج میں راستہ روکا، املاک کونقصان پہنچایا سزا ملنی چاہیے، اجتماع کاحق عوام کے راستے کے حق کو روکنے کی اجازت نہیں دیتا۔

سانحہ12مئی بری مثال ہے، جس سےسیاسی جماعتوں کوتشددکی راہ ملی، دھرنےمیں ، املاک کونقصان پہنچانے والوں کوسزاملنی چاہیے، فیصلہ

حکم نامے کے مطابق تحریک لبیک  کے لیڈروں نےاپنی تقریروں کے ذریعے ملک میں منافرت اورتشدد کو ہوا دی، ریاست سانحہ12مئی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں ناکام رہی، ملوث افراد کے خلاف کارروائی میں ناکامی سے دیگرسیاسی جماعتوں کی حوصلہ افزائی ہوئی۔

یاد رہے کہ نومبر 2017  میں ختم نبوت کے حلف نامے میں ترمیم کے معاملے پر فیض آباد انٹرچینج پر تحریک لبیک کی جانب سے 22 روز تک دھرنا دیا گیا تھا، فیض آباد انٹرچینج پر دھرنے کے خلاف سیکورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران مظاہرین سے جھڑپوں میں پولیس اہلکار سمیت 5 افراد جاں بحق اور 188  افراد زخمی ہوئے جبکہ پولیس نے درجنوں مظاہرین کو گرفتار کرلیا تھا۔

مزید پڑھیں : حکومت اورتحریک لبیک کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

فیض آباد دھرنے کے مظاہرین کے مطالبے پر وفاقی وزیرقانون زاہد حامد کے استعفے کے بعد وفاقی حکومت اور مذہبی جماعت تحریک لبیک کے درمیان معاملات طے پاگئے اور دونوں فریقین کے درمیان معاہدہ ہوگیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں