The news is by your side.

Advertisement

سندھ کی سرکاری زمینوں پر قبضے فوری ختم کرانے کا حکم

کراچی: چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس گلزار احمد نے کراچی رجسٹری میں کئی اہم کیسز کی سماعت کرتے ہوئے اہم فیصلے صادر کئے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا لارجربینچ آج دوسرے روز بھی کراچی رجسٹری میں مختلف نوعیت کے اہم کیسز کی سماعت کررہا ہے، لارجربینچ میں جسٹس سجاد علی شاہ، جسٹس قاضی محمد امین احمد بھی شامل ہیں۔

ٹھٹھہ کی سرکاری زمینوں سے متعلق فیصلہ

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں ٹھٹھہ میں زمینوں کے ریکارڈ میں جعل سازی کا معاملہ زیر بحث آیا، دوران سماعت جسٹس سجاد علی شاہ نے ریمارکس دئیے کہ ٹھٹھہ میں تو بہت ہی گڑ بڑ کی گئی ہے، یہاں بڑے پیمانے پر جعل سازی کی گئی، ٹھٹھہ میں سب نے اپنی مرضی کا دیہہ بنایا، ہمارا سوال یہ ہے کہ ٹھٹھہ میں ریکارڈ سب سے آخر میں کیوں بنایا؟

بعد ازاں عدالت عظمیٰ کے لارجر بینچ نے سندھ بھر میں سرکاری زمینوں پر قائم قبضے ختم کرانے کا حکم دیتے ہوئے سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو کو ہدایت دی کہ سندھ بھر کی ایک ماہ میں رپورٹ پیش کریں، عدالتی حکم میں کہا گیا کہ بتایا جائے کہ ریونیو کی زمینوں پر کتنے قبضے ہیں؟ اگر زمینیں واگزار کرائی گئیں تو تمام تر تفصیلات پیش کریں۔اس موقع پر چیف جسٹس گلزار احمد نے استفسار کیا کہ کیا وہاں کوئی گورنمنٹ زمین دستیاب ہے؟ اس صوبے میں حکومت کی زمین موجود بھی ہے یا نہیںِ جواب میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ سندھ حکومت کے پاس بہت زمین پڑی ہے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ پتہ چلے آپ کے کاغذات میں زمین ہو ، وہاں عمارتیں بھی بن گئی ہوں۔

گرین بیلٹ پر قائم قبضے ختم کرانے کا حکم

اس کے علاوہ سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے محکمہ ریونیو کو اپنے پارک اور کھیل کے میدان بحال کرنے کا بھی حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ریونیو اپنی گرین بیلٹ پر قائم قبضے بھی ختم کرائے اور سندھ بھر میں اپنی زمین کے تحفظ کے لیے اقدامات کریں، ساتھ ہی عدالت عظمیٰ نے محکمہ جنگلات کی زمینوں سے بھی قبضے ختم کرانے کا حکم اور محکمہ آبپاشی کی زمینیں بھی واگزار کرانے کا حکم دیا۔

عدالت عظمیٰ نے سندھ بھر کے تمام ڈپٹی کمشنرز اور مختارکاروں سے رپورٹ طلب کرلی، اس موقع پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ڈپٹی کمشنرز اور مختارکاروں کے دفاتر میں کئی متوازی نظام چل رہے ہیں،آپ کے مختار کار کچھ کام دفت اور کچھ گھروں میں کرتے ہیں، شہر میں ایک نہیں دس ، 10 منزلہ عمارتیں ہر جگہ بن رہی ہیں، آپ لوگوں کا فل بزنس چل رہا ہے۔چیف جسٹس سے مکالمے کے دوران سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے بتایا کہ ہمارے پاس اینٹی انکروچمنٹ موجود ہے،چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کی تو ساری زمین قبضوں سے بھری پڑی ہے،سپر ہائی وے پر تو شہر کے شہر آباد ہو رہے ہیں، نوری آباد سے آگے تک شہر آباد ہو رہے ہیں، ملیر میں جائیں، دیکھیں، کتنے قبضے ہیں، ہماری نظر میں یہ معاملے میں سب اہم ہیں۔

دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کچھ کر کے دکھائیں، سینئر بورڈ آف ریونیو صاحب، یہ بتائیں، کتنی زمینیں واگزار کرائیں، اگر قبضے ختم کرائے ہیں تو ہمارے سامنے رپورٹ رکھیں، جواب میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے عدالت کو بتایا کہ ہم نے چار ہزار ایکڑ ملیر کی زمین واگزار کرائی، چیف جسٹس نے ایک بار پھر استفسار کیا کہ یہ بتائیں، ان زمینوں کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کئے؟ جواب میں سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے کہا کہ ہم سندھ بھر میں کام کر رہے ہیں، ہماری تحقیقات کے دوران 2 لاکھ 45 ہزار فائلوں کی انٹریاں جعلی نکلیں۔

کڈنی ہل سے تجاوزات کے خاتمے کا حکم

بعد ازاں چیف جسٹس کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے لارجر بینچ نے کڈنی ہل تجاوزات کیس میں کمشنر کراچی کو دو ہفتے میں غیر قانونی تعمیرات میں ختم کرنے کا حکم دیا اور اسی عرصے میں عمل درآمد رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

دوران سماعت کمشنر کراچی نے عدالت عظمیٰ کو آگاہ کیا کہ کڈنی ہل پارک کی زمین پر 24 گھر بنے ہوے ہیں لوگ مقیم ہیں، جس پر عدالت نے کہا کہ کل آپ نے بیان دیا تھا ساری تجاوزات ختم کردیں گے کیا ہوا ؟، اگر اس طرح کا رویہ ہوگا تو توہین عدالت کا نوٹس دے دیں گے۔اس موقع پر کمشنر کراچی نےوضاحت کی کہ ساری زمینیں کلیئر ہیں کل جن گھروں کی نشاندہی ہوئی ہے وہ الگ ہیں۔

بعد ازاں عدالت عظمیٰ نے کڈنی ہل کی زمین پر قائم فاران سوسائٹی کے مکانات کو منہدم کرنےکا حکم دیا اور انہدام سے قبل مکینوں کو نوٹس جاری کرنے کا حکم دیتے ہوئے فاران سوسائٹی کے صد راور سیکریٹری کو بھی نوٹس جاری کردئیے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں