The news is by your side.

Advertisement

غیر ملکی اکاؤنٹس کیس: بیرون ملک ٹرانزیکشنز کی تفصیلات طلب

اسلام آباد: سپریم کورٹ میں پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت میں عدالت نے ایف بی آر اور بینک افسران کے زیر استعمال بڑی گاڑیاں واپس لینے کا حکم دیا جبکہ ایک سال کی غیر ملکی ٹرانزیکشنز کی تفصیلات بھی طلب کرلیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پاکستانی شہریوں کے غیر ملکی اکاؤنٹس سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی۔

عدالت نے کہا کہ کسٹم حکام جو گاڑیاں نان کسٹم پیڈ پکڑتے ہیں ان کی تفصیلات دی جائیں۔ نان کسٹم پیڈ گاڑیاں افسران خود استعمال کرتے ہیں۔ ایسی پالیسیاں خود بنائی گئیں کہ پیسہ بیرون ملک چلا جائے۔

سپریم کورٹ نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور بینک افسران کے زیر استعمال بڑی گاڑیاں واپس لینے کا حکم دیا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ اسٹیٹ بینک بھی بتائے ان کے پاس کتنی بڑی گاڑیاں ہیں۔ معلوم ہے چیئرمین ایف بی آر کے پاس 1300 سی سی گاڑی ہے۔ ’یہ قوم کا پیسہ ہے، قوم کے لیے مشعل راہ بنیں‘۔

انہوں نے کہا کہ تمام چیف جسٹس صاحبان سے بھی گاڑیوں کی تفصیل مانگی ہے۔

گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ میرے پاس ایک جیپ بھی ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ جیپ آپ کیسے استعمال کر سکتے ہیں۔

غیر ملکی اکاؤنٹس کے حوالے سے عدالت نے کہا کہ پیسہ غیر قانونی طریقے سے بیرون ملک جانا ریاست کی ناکامی ہے جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ ہم تو ملک کے قانون کے پابند ہیں، عدالت تشریح کردے تو اس کی پابندی بھی کریں گے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ جہانگیر ترین نے کتنے ملین ڈالرز بیرون ملک بھیج دیے، انہوں نے باہر اثاثے بنا لیے۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے استفسار کیا کہ دبئی میں کتنے پاکستانیوں کی جائیدادیں ہیں وہ بھول جائیں؟ ایمنسٹی اسکیم سے جو لوگ فائدہ اٹھائیں گے معلومات آجائے گی۔

عدالت نے اسٹیٹ بینک سے بیرون ملک منتقل رقم کی تفصیلات طلب کیں جس پر گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ 50 ہزار ڈالر سے اوپر منتقل رقم کی تفصیل دیتے ہیں۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی ٹرانزیکشنز سے بھی رقم جاتی ہے۔ گورنر اسٹیٹ بینک نے جواب دیا کہ ٹیڈی بکریوں کو بھی پکڑ لیتے ہیں۔

عدالت نے ایک سال میں 50 ہزار ڈالر سے اوپر ٹرانزیکشنز کا ریکارڈ طلب کرلیا۔ عدالت نے ہدایت کی کہ تفصیلات سر بمہر لفافے میں پیش کی جائے۔

کیس کی مزید سماعت ایک ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں