The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ نے پنجاب کے حلقہ پی پی 232 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 232 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ نے پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 232 سے کامیاب آزاد امیدوار رکنِ صوبائی اسمبلی کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے الیکشن ٹریبونل کا فیصلہ برقرار رکھا اور حلقہ میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا،عدالتی فیصلے پر مخالف امیدوار غلام محی الدین نے اطمینان کا مظاہرہ کیا۔

واضع رہے 2013 کے عام انتخابات میں پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 232 وہاڑی-1سے آزاد امیدوار چوہدری محمد یوسف کسیلا 50260 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے تھے،جب کہ مد مقابل مسلم لیگ (ن) کے امیدوار غالم محی الدین نے 43665 ووٹ حاصل کیے تھے۔

pic-2

یاد رہے آزاد امیدوار یوسف کسیلا نے بعد ازاں مسلم لیگ (ن) میں شمولیت اختیار کرلی تھی، جس کے بعد انہیں پنجاب اسمبلی کی اسٹیندنگ کمیٹی برائے ’’ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن‘‘ کا چئیر پرسن بنا دیا گیا تھا۔

ECP

تاہم 2013 کے عام انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار غلام محی الدین نے الیکشن ٹریبونل میں درخواست دائر کی کہ کامیاب آزاد امیدوار یوسف کسیلا نے الیکشن میں کیے گئے اخراجات کو چھپا کرالیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف ورزی کی ہے،اور اب وہ ’’صادق اور ’’امین‘‘ نہیں رہے،اس لیے الیکشن کو کالعدم قرار دے کر حلقہ میں دوبارہ الیکشن کرائے جائیں۔

pic-1

الیکشن ٹریبونل نے غلام محی الدین کے حق میں فیصلہ دے کر حلقہ کے انتخاب کو کالعدم قرار دیا،جس پر کامیاب امیدوار یوسف کسیلا الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ چلے گئے تھے،تاہم آج سپریم کورٹ نے بھی الیکشن ٹریبونل کے فیصلے کو برقرار رکھتے ہوئے حلقہ پی پی 232 میں دوبارہ الیکشن کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں کہ کیس ہارنے والے آزاد امیدوار نے بھی بعد ازاں ن لیگ میں شامل ہوگئے تھے جب کہ کیس جیتنے والے غلام محی الدین اِسی حلقے سے ن لیگ کے ٹکٹ ہولڈرتھے،دیکھنا یہ ہے کہ ن لیگ کی اعلیٰ قیادت اس دلچسپ صورتِ حال پر کیا لائحہ عمل وضع کرتی ہے۔

یاد رہے 2013 کے عام الیکشن میں ٹکت کی تقسیم کے حوالے سے بوری والہ سمیت کئی حلقوں میں اعتراضات اُٹھائے گئے تھے،اور یہ اختلاف ن لیگ کی شکست کا باعث بنا تھا،تاہم کامیاب امیدوار یوسف کسیلا کے ن لیگ میں شامل ہونے سے قیادت نے اطمینان کا اظہار کیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں