The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا عمران خان کے بنی گالہ میں مکان کی تعمیر کیلئے فراہم کیے گئے نقشے کی تصدیق کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے عمران خان کے بنی گالہ میں مکان کی تعمیر کے لیے فراہم کیے گئے نقشے کی تصدیق کا حکم دے دیا ہے جبکہ وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے کو ایک ہفتے میں نقشے کی تصدیق سے متعلق ریکارڈ فراہم کرنے کی ہدایت کر دی ہے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے بنی گالہ میں تجاوزات سے متعلق کیس کی سماعت کی ، دوران سماعت بابر اعوان نے عمران خان کے گھر کے نقشے کی دستاویزات عدالت میں پیش کی۔

بابر اعوان نے اپنے دلائل میں کہنا تھا کہ اپنے کہ یونین کونسل بارہ کہو کا این او سی 1990 کا ہے، عمران خان نے زمین خریداری کی فیس 2002 میں ادا کی اور 250 کنال اراضی پر گھر کی تعمیر کے لیے نقشہ یونین کونسل میں جمع کرایا، 2003 میں سرٹیفکیٹ بھی ملا۔

جس پر چیف جسٹس نے پوچھا کہ کیا نقشہ منظور کیا گیا؟ قانون کے مطابق طریقہ کار یہ ہے کہ نقشہ جمع کر کے منظوری لی جاتی ہے، پھر تعمیراتی کام مکمل ہونے کے بعد جائزہ لیا جاتا ہے کہ کیا تعمیر نقشے کے مطابق ہوئی۔

ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ ہم ریکارڈ دیکھ کر بتائیں گے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ہم بابر اعوان کی جانب سے فراہم کردہ عمران خان کے گھر کے نقشے کی دستاویزات کی پہلے تصدیق کرائیں گے۔

وکیل بابر اعوان نے کہا کہ نقشے کی منظوری کا قانون ہی موجود نہیں تھا، ہو سکتا ہے مخالف حکومت عمران خان کے گھر کے نقشے کی تصدیق نہ کرے۔

چیف جسٹس نے مسکراتے ہوئے کہا کہ ہم تفتیش کرا لیں گے یا جے آئی ٹی بنا دیں گے، جس پر بابر اعوان نے کہا کہ جو جے آئی ٹی پہلے بنی ہوئی ہے وہی کافی ہے۔

عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ایک ہفتے میں دستاویزات کی تصدیق کا حکم دیتے ہوئے سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردی۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں، مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کےلیے سوشل میڈیا پرشیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں