سپریم کورٹ کا چک شہزاد میں مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم
The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا چک شہزاد میں مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے چک شہزاد میں مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم دیتے ہوئے وطن واپسی کیلئے پرویزمشرف سے ایک ہفتے میں جواب طلب کرلیا جبکہ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے آصف زرداری اثاثوں کی تفصیل نہیں دینا چاہتےتو ان کی مرضی، ان کے مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم بھی دے سکتےہیں۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے این آر او کیس کی سماعت کی، سماعت میں ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا گزشتہ سماعت پر آصف زرداری، پرویز مشرف سے جوابات مانگے گئے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہم نےدونوں سابق صدور سے دوبارہ بیان طلب کیے تھے.

پرویز مشرف اور اہلیہ کے اثاثہ جات سےمتعلق تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کردی گئی، جس میں پاکستان کےاندراور باہر ممالک میں موجود اثاثہ جات کی تفصیلات شامل ہیں۔

جس کے مطابق پرویز مشرف کی پاکستان میں کوئی جائیداد نہیں ، پرویز مشرف کا دبئی میں 54 لاکھ درہم کا فلیٹ ہے، چک شہزاد میں فارم اہلیہ کے نام پر ہے، وکیل

چیف جسٹس نے پرویز مشرف کے وکیل سے استفسار کیا فارم ہاؤس کی کیا قیمت لکھی ہے، وکیل نے جواب میں بتایا فارم ہاؤس کی قیمت 4 کروڑ 36 لاکھ ہے ، جس پر چیف جسٹس نے کہا کیا 4 کروڑ میں یہ فارم فروخت کرنا ہے ؟ ٹھیک قیمت کیوں نہیں لکھی ؟

مشرف صاحب یہاں سے ریڑھ کی ہڈیوں کے درد کا بہانہ کرکے نکل گئے اور بیرون ملک جا کرڈانس کرتے ہیں، چیف جسٹس

چیف جسٹس سپریم کورٹ نے استفسار کیا بتائیں کہ جنرل صاحب پاکستان کیوں نہیں آرہے؟ یہاں سے ریڑھ کی ہڈیوں کے درد کا بہانہ کرکے نکل گئے اور بیرون ملک جا کرڈانس کرتے ہیں، پرویز مشرف کے خلاف آرٹیکل6 کامقدمہ چل رہا ہے۔

جس پر وکیل اختر شاہ کا کہنا تھا کہ پرویزمشرف کوسیکیورٹی چاہیے تو جسٹس ثاقب نثار نے کہا جنرل صاحب کوفل سیکیورٹی دی جائےگی ، سیکیورٹی کا بریگیڈ چاہیے تو وہ ان کو دے دیتے ہیں۔

سابق صدر کے وکیل نے کہا پرویزمشرف عدالت کااحترام کرتے ہیں،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے احترام عمل سے ہوتا ہے باتوں سےنہیں، ہم نے ان کانام ای سی ایل سے نہیں ہٹایا،یہ تاثر غلط ہے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ مشرف صاحب کوطبی سہولتیں بھی چاہییں، جس پر چیف جسٹس نے کہا اے ایف آئی سی سب سے بہترین ادارہ ہے، وہاں سے علاج کرائیں گے۔

وکیل کا کہنا تھا کہ مشرف صاحب چاہتےہیں جب انھوں نے واپس جانا ہو انہیں جانے دیا جائے، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دئے مشرف صاحب آئیں،عدالت سےبری کرائیں اور بےشک واپس جائیں، خصوصی عدالت سے اجازت لے کر بے شک واپس چلے جائیں۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کیاپرویز مشرف کے لیے علیحدہ قانون ہے؟ پرویز مشرف بری ہوجائیں تو دنیا کے کسی کونے میں چلے جائیں، ہم ان کی تمام منجمد جائیدادیں کو غیرمنجمد کر دیں گے،نہیں پوچھیں گے جائیدادیں کیسے اور کہاں سے بنائیں۔

وکیل نے استدعا کی کہ پرویز مشرف کی والدہ کا پنشن اکاؤنٹ کھول دیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پرویز مشرف کے پاس یہاں رہنے اور آنے کو خرچہ نہیں تو بتائیں، ہم ان کوٹریول الاؤنس اوریہاں رہنے کیلئے پاکٹ منی بھی دیں گے، اور بتائیں کیا چاہیے عدالت سے اس سے زیادہ کیا توقع کر سکتے ہیں؟

سپریم کورٹ کاچک شہزاد میں مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم

سپریم کورٹ نے چک شہزاد میں مشرف کا فارم ہاؤس کھولنے کا حکم دیتے ہوئے کہا مشرف پاکستان میں کہیں بھی اتریں سیکورٹی مہیا کی جائے، پرویز مشرف پاکستان میں مرضی کے ڈاکٹر سے علاج کراسکتے ہیں، چاہیں توسی ایم ایچ یااےایف آئی سی سےعلاج کرائیں، ان کے آنے سے پہلے گھر کی صفائی کی جائے گی۔

چیف جسٹس ثاقب نثار نے واضح کیا ہم نے پرویز مشرف کا نام ای سی ایل سے نہیں ہٹایا، پرویز مشرف واپسی کیلئے جو انتظامات چاہتے ہیں وہ کر کے دیں گے اور سپریم کورٹ ان کی سیکورٹی یقینی بنائے گی، یہاں آ کر اپنا بیان قلمبند کرائیں پھر جہاں چاہے گھومیں پھریں، ان کے اثاثوں کا بھی نہیں پوچھیں گے۔

چیف جسٹس نے وکیل اختر شاہ سےسوال مجھے پرویز مشرف کی واپسی کا شیڈول بتائیں؟ جس پر اختر شاہ نے جواب میں کہا سابق صدر پرویز مشرف بزدل نہیں ہیں،اگر پرویز مشرف کے آنے جانے پرپابندی نہ لگائی جاتے تو وہ واپس آسکتے ہیں۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا پرویز مشرف جس ایئرپورٹ پر اتریں گے، رینجرز کا دستہ استقبال کرے گا۔

بعد ازاں پرویزمشرف کی واپسی کی حد تک سماعت ایک ہفتے کیلئے ملتوی کردی۔

ہم نے ابھی آصف علی زرداری کو کچھ نہیں کہا ، عدالت نےصرف اثاثوں کی تفصیلات مانگی تھیں, چیف جسٹس

این آراو سے متعلق سماعت میں آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے اپنے دلائل میں کہا آصف زرداری نےنظر ثانی درخواست دائر کی ہے، این آر او کیس اخباری رپورٹ پر بنایا گیا، الزام ہےاین آر او کے زریعے قوم کواربوں کا نقصان ہوا۔

فاروق ایچ نائیک نے کہا این آر او کالعدم ہونے پر مقدمہ بحال ہو گئے، آصف علی زرداری میرٹ پرتمام مقدمات سے بری ہوے، نیب نےتمام مقدمات کی از سر نو تحقیقات کی تھیں، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہم نے ابھی آصف علی زرداری کو کچھ نہیں کہا ، عدالت نےصرف اثاثوں کی تفصیلات مانگی تھیں، عدالت مقدمات دوبارہ کھولنے کا حکم بھی دے سکتی ہے۔

جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا تاثر ہےتمام شواہد زرداری نے خود ضائع کیے، نظر ثانی درخواست میں دستاویزات گم ہونے کا اقرار کیا گیا، جس پر وکیل فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا شواہدکس نے ضائع کیے معلوم نہیں تو جسٹس اعجاز کا مزید کہنا تھا کہ جودستاویزات طلب کیں ان کی تفصیلات کس نے ضائع کیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے زرداری اثاثوں کی تفصیل نہیں دینا چاہتے تو انکی مرضی ہے، عدالت نے مکمل انصاف کے لیے تفصیلات مانگی ہیں، یہ عوامی اہمیت کامعاملہ ہے، انصاف کے تقاضوں کے تحت بیرون ملک اثاثوں کی تفصیل مانگی ،عدالت

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کرپشن کیس بنیادی حقوق سے منسلک ہے، فی الحال اسے کرپشن کیس قرار نہیں دے رہے ، کیوں نہ آصف زرداری کوطلب کر لیں، آپ ان کی مو جودگی میں دلائل دیں۔

وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا آپ میرے دلائل ان کی عدم موجودگی میں بھی سن لیں۔

بعد ازاں سپریم کورٹ میں سماعت 2 ہفتے کے لیے ملتوی کردی گئی۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں