The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا اسلام آباد میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے ہنگامی اقدامات کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ کا اسلام آباد میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے ہنگامی اقدامات کا حکم دے دیا اور چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد سے ایک ماہ میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں اسلام آباد کوڑا کڑکٹ ڈمپنگ سائٹ کیس کی سماعت جسٹس عمر عطاءبندیال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔

عدالت نے سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے چیئرمین سی ڈی اے اورمیئر اسلام آباد کو فوری طلب کرلیا۔

جسٹس عمر عطاء بندیال نے کہا کہ کوڑا کرکٹ لگانے کی سائٹ محض کاغذوں میں دکھائی گئی، سیکرٹری داخلہ کو بھی گزشتہ سماعت پر بلایا گیا، عدالت کو بتایا کچھ جاتا ہے اور حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا،عدالت کے ساتھ بیوروکریٹک انداز اپنایا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ کیوں نہ سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد کے خلاف ایکشن لیں ، عدالت نے سی ڈی ای کی جانب پیش کی گئی رپورٹ عدم اطمینان کا اظہار کیا ۔

وقفہ کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد عدالت میں پیش ہوئے، عدالت نے سی ڈی اے اور ایم سی آئی کی کارکردگی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اسلام آباد میں کوڑے کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کیلئے ہنگامی اقدامات کا حکم دے دیا۔

عدالت عظمیٰ نے چیئرمین سی ڈی اے اور میئر اسلام آباد سے ایک ماہ میں عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی ۔

جسٹس عمر عطاءبندیال نے کہاکہ ہم نے کوڑا ڈمپ کرنے کے منصوبے ڈبلیو ایل سی سے متعلق پوچھا تو چند تصویریں دکھا دی گئیں، تصویروں میں تین چار گڑھے کھودے ہوئے ہیں، منصوبے کی لاگت ایک ارب روپے بڑھ گئی ہے ، اوپر سے کہہ رہے ہیں کہ منصوبے پر چار سال لگیں گے۔

جسٹس عمر عطا بندیال کا کہنا تھا کہ آپ نے شاپر ختم کرنے کا اچھا اقدام کیا ہے، چھلکے، سبزیاں، ہڈیاں ٹھکانے لگانے کے لئے بھی کچھ کریں، ہمیں کاغذی نہیں بلکہ عملی نتائج چاہئیں۔

جسٹس عمر عطا بندیال نے مزید کہا چھوٹی سطح پر کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کا ٹھیکہ دیں، کوڑا کرکٹ سے آپ توانائی حاصل کر سکتے ہیں اور مالی فوائد بھی،کوڑا کرکٹ ٹھیکے پر دینے سے متعلقہ علاقے کو مفت بجلی بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔

جسٹس اعجا ز الاحسن کا کہنا تھا ان مسائل کے حل کیلئے سستے اور موثر حل تلاش کرنا ہوں گے، چھوٹے چھوٹے منصوبوں کے فنڈز کیلئے آپ حکومت کیطرف نہیں دیکھ سکتے، آپ کو اپنے وسائل خود پیدا کرنا ہوں گے۔

بعد ازاں کیس کی سماعت ایک ماہ کیلئے ملتوی کر دی گئی ۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں