site
stats
پاکستان

زینب قتل کیس: عدالت کی طلبی پر شاہد مسعود عدالت میں پیش

Mian Saqib Nisar

اسلام آباد: زینب قتل کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے ایک اور ازخود نوٹس کی سماعت کے دوران عدالت نے ملزم کی سیکیورٹی یقینی بنانے کی ہدایت کردی جبکہ نجی ٹی وی چینل کے اینکر شاہد مسعود بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں قصور کی 7 سالہ زینب کے قتل کے کیس میں ایک اور ازخود نوٹس کی سماعت ہوئی۔

چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے سماعت کرتے ہوئے 2 دن میں آئی جی پنجاب سے رپورٹ طلب کرلی جبکہ ملزم عمران کی حفاظت کی ذمہ داری براہ راست آئی جی پنجاب کے حوالے کردی گئی۔

دوسری جانب عدالت کے حکم پر نجی ٹی وی چینل کے اینکر شاہد مسعود بھی عدالت میں پیش ہوئے۔

شاہد مسعود کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ملزم عمران ذہنی مریض ہے، نہ نفسیاتی مریض اور نہ پاگل ہے۔ پاکستان میں زیادتی میں گینگ ملوث ہے جس میں سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں۔

عدالت کی ہدایت پر شاہد مسعود نے ملوث افراد کے نام لکھوا دیے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ملزم عمران کے 37 فارن کرنسی اکاؤنٹس ہیں۔ ان اکاؤنٹس میں ڈالر اور یورو میں ٹرانزکشن ہوتی ہے۔ یہ اکاؤنٹس ملزم عمران خود استعمال کرتا ہے۔

شاہد مسعود کے مطابق گھناؤنے فعل میں ملوث گینگ پہلے پاکستان سے تصویر سائٹ مینیجر کو بھجواتا ہے، تصویر کی منظوری کے بعد بچی کو اغوا کیا جاتا ہے اور اس پر جنسی تشدد کر کے قتل کردیا جاتا ہے۔

ان کے مطابق یہ مناظر انٹرنیٹ پر بھی دکھائے جاتے ہیں۔

خیال رہے کہ شاہد مسعود نے اپنے پروگرام میں انکشاف کیا تھا کہ زینب کے ساتھ قتل اور زیادتی میں پورا گینگ ملوث ہے جس میں چند سیاستدانوں کے نام بھی شامل ہیں۔

ان کے اس پروگرام کے بعد سپریم کورٹ نے انہیں عدالت میں پیش ہونے اور ثبوت و شواہد پیش کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالت میں شاہد مسعود نے کہا کہ ملزم کو پولیس کے بجائے حساس ادارے کی تحویل میں دیا جائے، جبکہ انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ پس پردہ متحرک اصل شخصیات کو چھپانے کے لیے ملزم کو دوران حراست قتل بھی کیا جاسکتا ہے۔

عدالت نے زینب قتل کیس سے متعلق تشکیل دی گئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کو شاہد مسعود کی جانب سے پیش کیے گئے شواہد کی تحقیقات کا حکم بھی دے دیا۔

کیس کی مزید سماعت 29 جنوری تک ملتوی کردی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

loading...

Most Popular

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top