The news is by your side.

Advertisement

سپریم کورٹ کا سانحہ اے پی ایس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم

اسلام آباد : سپریم کورٹ نے سانحہ اے پی ایس پشاور کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دے دیا جبکہ چیف جسٹس نے 16 دسمبرکو پشاور میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سانحہ اے پی ایس پشاور کیس کی سماعت کی ، اٹارنی جنرل سپریم کورٹ میں پیش ہوئے۔

اٹارنی جنرل نے عدالت کو بتایا کہ واقعے میں ملوث لوگ گرفتاربھی ہوئےاورانہیں سزابھی دی جاچکی ہے، انسانی طورپرجوکچھ ممکن ہےحکومت کررہی ہے اور یہ بھی حقیقت ہےمیں متاثرہ والدین کیساتھ آنکھیں نہیں ملاسکتا۔

چیف جسٹس نے متاثرہ والدین سےاستفسار کیا کہ آپ بتائیں آپ حکومت سےکیاچاہتےہیں؟ متاثرہ والدین نے مطالبہ کیا کہ سیکیورٹی پر معمور لوگوں کو ہی نہیں اعلی عہدے پر بیٹھے ذمہ داروں کو بھی سزاملنی چاہیے، ایک ہال میں سب کو جمع کرکے قتل کیا گیا، دہشت گردی نہیں بلکہ ٹارگٹ کلنک ہوئی ہے، ہم لوگ زندہ قبر میں دفن ہوگئے ہیں۔

جس پر جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ یہ صرف آپ کا دکھ نہیں ہم سب کا دکھ ہے پوری قوم کا دکھ ہے، چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ان تمام لوگوں کا بھی پتہ چلے جو سیکیورٹی پر ذمہ دارتھے اوران کی ذمہ داری میں بندوقوں سے بھری گاڑیاں آچکی، اٹارنی جنرل سن لیں یہ متاثرین کیا چاہتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ملک کا المیہ ہے کہ حادثے کے بعد صرف چھوٹےاہلکاروں پر ذمہ داری ڈال دی جاتی ہے، اٹارنی جنرل صاحب اب اس ریت کو ختم کرناہوگا، آپ کو سزا اوپر سے شروع کرنا ہوگی، حکومت کو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ آئندہ ایسا واقع رونما نہ ہو۔

جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ جو سیکیورٹی کےذمہ دارتھے انکے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہیے، اتنابڑا سیکیورٹی لیپس کیسے ہوا۔ سیکیورٹی اداروں کے پاس اطلاعات تو ہونی چاہیے تھیں، جب عوام محفوظ نہیں توبڑی سیکیورٹی کیوں رکھی جائے۔

سپریم کورٹ نے نے اسانحہ اے پی ایس کی جوڈیشل کمیشن رپورٹ اور اٹارنی جنرل کی رپورٹ پر کمنٹس بھی پبلک کرنے حکم دیتے ہوئے امان اللہ کنرانی کو عدالتی معاون مقرر کر دیا۔

عدالت نے حکومت کو کمیشن رپورٹ پر لائن آف ایکشن بنانے اور ذمہ داران کیخلاف سخت کاروائی کا حکم دیتے ہوئے سماعت ایک ماہ کے لیے ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس نے 16 دسمبرکو پشاور میں دعائیہ تقریب میں شرکت کی دعوت قبول کرلی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں