The news is by your side.

Advertisement

چیف جسٹس کا سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنےکا حکم

اسلام آباد : چیف جسٹس ثاقب نثار نے سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کا نام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے سخت برہمی کا اظہار کیا اور کہا پی آئی اے کو برباد کرکے رکھ دیاگیا، پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے ذمے دار کو نہیں چھوڑیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے پی آئی اے کی نجکاری اور آڈٹ سے متعلق ازخود نوٹس کیس کی سماعت کی۔

سماعت شروع ہوئی تو چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیاسابق مینیجنگ ڈائریکٹر تشریف لائے ہیں؟ ہم نےصرف 2سابق سربراہان کوباہر جانےکی اجازت دی ، ہمیں فرانزک آڈٹ مل چکا ہے، فرانزک آڈٹ سے متعلق بریفنگ ہونی ہے، پی آئی اے کو نقصان پہنچانے کے ذمے دار کو نہیں چھوڑیں گے۔

چیف جسٹس نے مہتاب عباسی سے سوال کیا کہ بدعنوانی یانقصان آپ کےدورمیں نہیں ہوا؟ آپ بیٹھ کر دیکھیں پی آئی اے میں ہوا کیا ہے؟

عدالت میں پی آئی اے کے 2008-2017 کے مالی حالات پر بریفنگ دی گئی ، عدالتی معاون فرخ سلیم نے کہا کہ عدالت کے سامنے پی آئی اے کا10سال کا مالی جائزہ پیش کروں گا۔


 سال2008 سےاب تک 360 ارب تک کا نقصان ہوا


فرخ  سلیم نے بتایا کہ 2008 سےاب تک 360 ارب تک کا نقصان ہوا، 2008 میں 36 ،2001 میں 28 ارب ،2016 میں 45 اور 2017 میں 44 ارب کا نقصان ہوا، آمدن سے زیادہ اخراجات خسارے کی وجہ ہے، جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ 2008 تک خسارہ 73ارب کا تھا، 2008 سے خسارہ بڑھ کر360   ارب ہو گیا، خسارہ آخری 2حکومتوں کے ادوار میں ہوا۔

عدالتی معاون نے کہا کہ 88 فیصد خسارہ گزشتہ 10سال کا ہے، 2013 سے2017 تک 197 ارب کا نقصان ہوا،جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا 2013 میں ہوا بازی کا نیا ادارہ بنایا گیا، شجاعت عظیم کو ہوا بازی کامشیر مقرر کیا گیا تھا، فرخ سلیم نے بتایا 2008 سے 2017 تک 412ارب کے واجبات ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے سوال کیا کہ پی آئی اے کے لیے پیسہ کہاں سے آتا ہے۔

چیف جسٹس نے  ریمارکس دیئے  پی آئی اے کو ٹیکس کا پیسہ جاتا ہے، ٹیکس کے پیسے کو  پی آئی اے والے کھاتے جارہے ہیں، جس پر  عدالتی معاون نے بتایا نقصان کی وجہ سیاسی اثررسوخ، پیکج اور ایسوسی ایشن پالیسی ہے، دس سال میں پی آئی اے میں تقرریاں سیاسی بنیادوں پر ہوئیں، پی آئی اے میں 7  یونین ہیں، سب کی سیاسی جماعتوں سے  وابستگی ہے۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ 2013 سے 2016 تک طیارےلیز  پر  لیے گئے، طیارے لیز  پر لینے کے وقت ایم ڈی کون تھے؟فرخ سلیم نے بتایا کہ 2016 میں لیز  پر  طیاروں کے لیے 9 ارب ادا کیے گئے، 2008 سے2017 تک 45 طیاروں کو لیز  پر لیا گیا، جس پر  چیف جسٹس نے کہا ایسے طیاروں کےلیے پرزہ جات کی خریداری پر  پیسہ خرچ ہوا۔

عدالتی معاون نے بتایا کہ 1990 سے پی آئی اے کے پاس پرزہ جات موجود ہیں، پرزہ جات کو آج تک استعمال نہیں کیا گیا، لیز  پر طیارے گراؤنڈ ہونے سے 6.67 ارب نقصان ہوا، چیف جسٹس نے ریمارکس میں کہا کہ طیارہ چلے گا تو منافع آئے گا،لیز  پر حاصل طیارے گراؤنڈ کر دیے گئے، جسٹس اعجاز الاحسن کا کہنا تھا کہ طیارے کو گراؤنڈ کرنے سے 36 ارب کانقصان ہوا۔

چیف جسٹس نے عدالت میں موجود سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا شجاعت عظیم آپ عدالت میں جیب سےہاتھ نکال کر کھڑے ہوں۔

جسٹس ثاقب نثار نے سابق مشیر ہوا بازی شجاعت عظیم کانام ای سی ایل میں ڈالنے کا حکم دیتے ہوئے کہا آپ ملک سے باہر نہیں جا سکتے، سب نقصان آپ کے دور میں ہوا، جس پر شجاعت عظیم نے کہا کہ دو سال مشیرہوا بازی رہا،تعلق پی آئی اے سے نہیں ہوا بازی سے تھا،اپنے دور میں ایوی ایشن پالیسی بنائی۔

چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ کاہوابازی کاتجربہ کیاہے، جس پر شجاعت عظیم نے بتایا کہ میں کینیڈامیں کنسلٹنٹ رہاہوں، جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ہم آپ کانام ای سی ایل میں ڈال رہے ہیں، اس معاملےکی تحقیقات ہونی ہے، دیکھیں گے اتنے بڑے خسارےکا ذمہ دارکون ہے، فریقین سوچ سمجھ کر جواب دیں، ہوسکتا ہے میں خود تحقیقاتی کمیٹی کا چیئرمین بنوں۔

عدالتی معاون نے ہوش ربا انکشاف کرتے ہوئے بتایا 2013 سے2017 تک ایک سو ستانوے ارب کانقصان ہوا،صرف دو ہزار تیرہ میں 2لاکھ 87 ہزار  ٹکٹ بانٹے گئے، جس سے پانچ ارب کانقصان ہوا، چیف جسٹس نے سوال کیا کس کو پی آئی اے کے ٹکٹس مفت دیے گئے؟ مفت ٹکٹس تقسیم کا معاملہ بعدمیں دیکھیں گے، پراسیکوٹر نیب آپ یہاں موجود ہیں آپ بھی دیکھیں۔

فرخ سلیم نے عدالت کو بتایا کہ پی آئی اے کے کارگو نقصانات کا جائزہ لینا ہوگا، 2016 میں پی آئی اے کے طبی اخراجات 3 ارب کے ہیں،2000 میں پی آئی اے کے حصص کا ریٹ 53 فیصد تھا، جس پر چیف جسٹس نے سوال کیا پاکستان کی ایئرلائن کےحصص کی قیمت کم کیسے ہوئی؟ کیا ہمارے پاس طیارے کم تھے یا روٹ فروخت کیےگئے۔

عدالتی معاون نے کہا 2017 میں حصص کی قیمت 22 فیصد ہوگئی ،مشرق وسطی کی پروازیں ہفتے میں 546 رہ گئیں، چیف جسٹس نئے استفسار کیا کہ کیا سابق ایم ڈیز ان سوالات کاجواب ایک ساتھ دیں گے یا الگ الگ؟ کیایہ معاملہ نیب کوبھجوا دوں ؟

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ عدالت تحقیقات کے لیے کمیٹی تشکیل دے گی، بریفنگ سب متعلقہ لوگوں نے دیکھ لی ہے، سب لوگ اپنے جوابات دے دیں، پی آئی کو برباد کر کے رکھ دیا گیا، جس پر شجاعت عظیم نے کہا کہ جب میں آیا تو پی آئی اے کے پاس 18جہاز تھے۔

چیف جسٹس نے شجاعت عظیم سے استفسار کیا کہ کس بنیادپرآپ کی تقرری ہوئی، کیاآپ کی تقرری سیاسی بنیاد یا پھراقرباپروری پر نہیں ہوئی؟ پی آئی اے کا بیڑاغرق کرکے رکھ دیا، ہرآدمی کہتا ہے ملک کا نقصان نہیں کیا، کیا آسمان سے فرشتے آکر اربوں روپے کھا گئے، بتانا پڑے گا آپ کی مشیرہوا بازی تقرری کیسے ہوئی، اس ملک کا ایک پیسہ جانے نہیں دیں گے۔

چیف جسٹس نے مشیر ہوابازی سردار مہتاب کی تعریف کرتے ہوئے کہا سردارمہتاب صاحب آپ ایماندارآدمی ہیں، آپ کےدور میں ایک پیسہ بھی ادھر ادھر نہیں ہوا، ہرمرتبہ پی آئی اےکے پیسے کے مزے لوٹ لئے جاتے ہیں، کیٹرنگ کے ٹھیکے کس کو دیئے گئے ہیں، معلوم ہے، کس نے ہاؤسنگ سوسائٹی بنائی سب معلوم ہے۔

جسٹس ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ عوام کوکہہ دیتے ہیں خیرات جمع کرکے پی آئی اےکوبحرانوں سےنکالے، ہم نیشنل کیریئر  اور اپنے جھنڈے کو نیچےنہیں ہونے دے گی، عباسی صاحب آپ کواس معاملےکی تحقیقات کراناچاہیے تھی، پی آئی اے کو بجٹ میں 20بلین روپےدیےگئے، ایک شخص پی آئی اے کا جہاز لے کر جرمنی چلا گیا۔

چیف جسٹس نے سردار مہتاب عباسی سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کیا جہاز میوزیم میں رکھنے کے لیے لیا گیا؟ اب مٹی پاؤ والی پالیسی نہیں چلے گی، آپ قوم کے لیڈر  ہیں۔

سپریم کورٹ نے پی آئی اےمیں خلاف ضابطہ8بھرتیوں پرنوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے15روزمیں پریزنٹیشن پرجواب طلب کرلیا۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں‘ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک’پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں